اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے پاکستان کی موجودہ آئل ریفائنریوں کی جدید کاری کے لیے پلانٹ اپ گریڈ معاہدے کو حتمی شکل دے کر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) سے منظوری طلب کر لی ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد ترمیم شدہ پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی فار اپ گریڈیشن آف ایگزسٹنگ/براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023 کو عملی مرحلے میں لے جانا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق معاہدے کا مسودہ پیٹرولیم ڈویژن، وزارت قانون و انصاف، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، فنانس ڈویژن، انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز، متعلقہ ریفائنریوں اور دیگر فریقوں کے درمیان مشاورت کے بعد حتمی کیا گیا۔

ECC کی منظوری ملنے کی صورت میں ریفائنریوں اور حکومت کے درمیان اپ گریڈیشن کے انتظامات کو باضابطہ شکل دی جا سکے گی۔ موجودہ ریفائنریوں کی جدید کاری کا بنیادی مقصد پلانٹس کی کارکردگی بہتر کرنا، مصنوعات کے معیار کو بلند کرنا اور جدید ایندھن کے معیارات کے مطابق پیداوار کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

پاکستان کی ریفائننگ صنعت طویل عرصے سے پرانے پلانٹس، محدود کنورژن صلاحیت اور بعض کم قدر والی مصنوعات کے زیادہ تناسب جیسے مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے۔ پالیسی کے تحت سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مالی اور ریگولیٹری انتظامات تجویز کیے گئے تھے، لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے حکومت اور ریفائنریوں کے درمیان واضح معاہداتی فریم ورک ضروری تھا۔

تازہ پیش رفت کو حتمی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ECC نے ابھی معاہدے پر فیصلہ کرنا ہے۔ کمیٹی شرائط، مالی اثرات اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے بعد منظوری، ترمیم یا مزید غور کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

اگر معاہدہ منظور ہو جاتا ہے تو ریفائنریوں کے لیے اپنے اپ گریڈ منصوبوں پر سرمایہ کاری اور عملدرآمد کی سمت زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر پلانٹ کی سرمایہ کاری، تکمیل کی مدت اور عملی نتائج متعلقہ کمپنی کے منصوبے اور ریگولیٹری شرائط کے مطابق مختلف ہوں گے۔