اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آٹوموٹیو انڈسٹری پالیسی 2026-31 کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی آٹو صنعت کو زیادہ مسابقتی، برآمدی اور برقی گاڑیوں کی جانب منتقل کرنا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے پالیسی کے اہم نکات بتاتے ہوئے کہا کہ حتمی مسودہ اب کابینہ کے سامنے غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔
پالیسی میں پانچ سال کے دوران آٹو سیکٹر کی برآمدات کو مجموعی طور پر چھ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ روایتی اندرونی احتراقی انجن والی گاڑیوں پر مجوزہ آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی عائد کر کے حاصل ہونے والی رقم کو الیکٹرک گاڑیوں اور برآمدی مراعات کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کو مجوزہ لیوی سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے ذریعے گاڑیوں کی قیمتیں بتدریج کم کرنے، مقامی پرزہ سازی بڑھانے، حفاظتی معیار بہتر بنانے اور برقی گاڑیوں کی قبولیت میں تیزی لانے کی کوشش کی جائے گی۔ صنعت کے لیے برآمدی اہداف اور مراعات کو کارکردگی سے جوڑنے کا تصور بھی شامل ہے تاکہ مقامی پیداوار صرف اندرونی مارکیٹ تک محدود نہ رہے۔
صارفین کے تحفظ سے متعلق ایک اہم تجویز یہ ہے کہ گاڑی بنانے والی کمپنیاں بکنگ کے وقت گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ پیشگی وصول نہ کر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد طویل انتظار، بڑے ایڈوانس اور صارفین کے سرمائے کے غیر ضروری استعمال سے متعلق شکایات کم کرنا بتایا گیا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق پالیسی کے مسودے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بھی مشاورت ہوئی اور اس کے بعد وزیراعظم نے حتمی ڈرافٹ منظور کیا۔ تاہم یہ امر اہم ہے کہ وزیراعظم کی منظوری کے باوجود پالیسی کو کابینہ کے غور اور متعلقہ قانونی و انتظامی اقدامات سے گزرنا ہوگا۔ مجوزہ لیوی، مراعات اور دیگر اقدامات کی عملی شکل متعلقہ نوٹیفکیشنز اور قواعد کے بعد واضح ہوگی۔
آٹو صنعت پاکستان کی بڑی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں شامل ہے، اس لیے نئی پالیسی کے اثرات گاڑیوں کی قیمت، مقامی پرزہ سازوں، درآمدات، برآمدات اور ای وی مارکیٹ تک پھیل سکتے ہیں۔ حکومت نے اسے صنعتی مسابقت اور برآمدی نمو سے جوڑا ہے، جبکہ اس کے حقیقی نتائج کا انحصار نفاذ، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے ردعمل پر ہوگا۔
