اسلام آباد: پاکستان کی خدمات کی برآمدات نے رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران خدمات کی برآمدات 2.72 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 22.6 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت برآمدی آمدن بڑھانے اور اشیا کے ساتھ خدمات کے شعبے کو بھی زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اعدادوشمار میں ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کا شعبہ سب سے نمایاں رہا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران اس شعبے کی برآمدی آمدن تقریباً 1.246 ارب ڈالر تک پہنچی۔ اس میں کمپیوٹر سروسز، سافٹ ویئر، آئی ٹی سے متعلق خدمات اور دیگر ڈیجیٹل کام شامل ہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی صنعت گزشتہ چند برسوں سے بیرون ملک خدمات فراہم کرنے، فری لانسنگ اور سافٹ ویئر برآمدات کے ذریعے خدمات کے مجموعی برآمدی ڈھانچے میں اپنا حصہ بڑھا رہی ہے۔

پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق خدمات کی درآمدات بھی اسی عرصے میں بڑھی ہیں، اس لیے مجموعی تجارتی توازن کا جائزہ صرف برآمدی نمو سے نہیں کیا جا سکتا۔ خدمات کی تجارت میں ٹرانسپورٹ، سفر، مالیاتی خدمات، سرکاری خدمات، کاروباری خدمات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبے شامل ہوتے ہیں۔ ان میں ہر شعبے کی درآمد اور برآمد کی رفتار مختلف رہتی ہے اور یہی فرق خدمات کے مجموعی تجارتی خسارے یا سرپلس پر اثر انداز ہوتا ہے۔

حکومت نے آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کو برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ تاہم برآمدی آمدن کے پائیدار اضافے کے لیے صنعت کو ادائیگیوں کے نظام، ہنرمند افرادی قوت، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کاروباری لاگت اور عالمی منڈیوں تک رسائی جیسے عوامل میں مسلسل بہتری درکار ہے۔ پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار مثبت رفتار کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن پورے مالی سال کی کارکردگی کا انحصار آنے والی سہ ماہیوں میں اسی نمو کے برقرار رہنے پر ہوگا۔

خدمات کی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ روایتی اشیائی برآمدات کے مقابلے میں بعض ڈیجیٹل اور پیشہ ورانہ خدمات کم مادی درآمدی ان پٹس کے ساتھ زرمبادلہ کما سکتی ہیں۔ تازہ اعدادوشمار سے آئی ٹی اور متعلقہ خدمات کی بڑھتی اہمیت واضح ہوتی ہے، تاہم حتمی سالانہ نتیجہ مالی سال کے اختتام پر مکمل اعدادوشمار آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔