نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ستمبر 2026 کی ماہانہ فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 2.36 روپے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ مثبت فیول چارج ایڈجسٹمنٹ ستمبر میں بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی حقیقی لاگت اور پہلے سے وصول شدہ رقم کے فرق کی بنیاد پر طے کی گئی۔

نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ کے الیکٹرک اور سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں کے متعلقہ صارفین پر لاگو ہوگی۔ تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین سمیت بعض زمروں کو اس اضافے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اضافی رقم صارفین کے بلوں میں فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کے طور پر الگ دکھائی جائے گی اور اس کا تعلق ستمبر 2026 میں استعمال شدہ یونٹس سے ہوگا۔

ریگولیٹری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نومبر کے بعض بل نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے بن چکے ہوں تو متعلقہ ایڈجسٹمنٹ بعد کے بل میں وصول کی جا سکتی ہے۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ پاکستان کے بجلی کے ٹیرف نظام کا معمول کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی اصل ایندھن لاگت میں کمی یا اضافے کو بعد کے مہینوں میں صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔

اسی دوران پاور ڈویژن نے صنعتی بجلی کے نرخ سے متعلق بعض اطلاعات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی ٹیرف میں عمومی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق زیر بحث 25.30 روپے فی یونٹ شرح صنعتی اور زرعی صارفین کے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کی نظرثانی شدہ مارجنل شرح ہے، اسے مجموعی صنعتی ٹیرف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

پاور ڈویژن کے مطابق خلیجی خطے کی جنگی صورتحال کے باعث مارجنل لاگت میں تبدیلی کے تناظر میں پیکیج کی شرحوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دسمبر 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران اضافی کھپت کے پیکیج سے ہزاروں گیگاواٹ آور بجلی استعمال ہوئی اور اہل صارفین کے ایک حصے کو مالی فائدہ پہنچا۔ نیپرا کا تازہ فیصلہ بہرحال ستمبر کی فیول لاگت سے متعلق الگ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ ہے، جس کا اثر متعلقہ صارفین کے آئندہ بلوں میں سامنے آئے گا۔