اسلام آباد میں ایل پی جی کے نئے نیلامی فریم ورک کو عملی شکل دینے والی اعلیٰ سطح کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔ ڈان کی 8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدار بالخصوص ان دشوار گزار علاقوں میں فراہمی کے لیے استعمال ہوگی جہاں صارفین کو مناسب قیمت پر ایل پی جی تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
سیکریٹری پیٹرولیم کی زیر صدارت کمیٹی کے پہلے اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی شریک ہوئے۔ طے شدہ طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والے ادارے اپنی پیداوار کا 10 فیصد سرکاری ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو دیں گے، جبکہ باقی 90 فیصد مقدار میڈیا کی موجودگی میں شفاف نیلامی کے ذریعے مارکیٹ میں پیش کی جائے گی۔
نئے نظام میں نجی بولی دہندگان کے لیے یومیہ خریداری کی زیادہ سے زیادہ حد 20 ٹن مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس پابندی کا مقصد نیلامی میں چند بڑے خریداروں کے غلبے کو محدود کرنا اور مختلف مارکیٹنگ اداروں کے لیے رسائی برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا طریقہ کار سپلائی چین کو زیادہ مضبوط بنانے، مقامی پیداوار کی منصفانہ تقسیم اور حساس علاقوں میں دستیابی بہتر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی ایسے علاقوں اور گھرانوں کے لیے اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس کی رسائی محدود یا غیر موجود ہے۔ اسی وجہ سے قیمت اور دستیابی میں تیز تبدیلی کا اثر گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباروں اور ٹرانسپورٹ کے بعض حصوں پر پڑتا ہے۔ حالیہ عرصے میں سرکاری نرخ اور بعض علاقوں میں حقیقی خوردہ قیمت کے درمیان نمایاں فرق کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے نگرانی اور تقسیم کے طریقہ کار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
کمیٹی کا فیصلہ ایک نئے آپریشنل فریم ورک کا آغاز ہے، اس لیے صارفین کے لیے اس کے حقیقی نتائج فوری طور پر یقینی نہیں سمجھے جا سکتے۔ قیمتوں میں استحکام اور دور دراز علاقوں میں دستیابی کا انحصار نیلامی کے باقاعدہ انعقاد، سرکاری کمپنیوں کی تقسیم صلاحیت، درآمدی و مقامی سپلائی، ٹرانسپورٹ لاگت اور مارکیٹ نگرانی پر ہوگا۔ آئندہ نیلامیوں اور خوردہ نرخوں کے اعدادوشمار سے واضح ہوگا کہ نیا نظام اپنے مقررہ مقاصد کس حد تک حاصل کرتا ہے۔
