اسلام آباد میں جاری سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی خدمات کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 22.60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی سے ستمبر 2026 کے عرصے میں خدمات کی برآمدی آمدن 2.72 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 2.22 ارب ڈالر تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مرتب کردہ اعدادوشمار میں اس اضافے کا بڑا حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک خدمات کو قرار دیا گیا ہے۔

صرف ستمبر میں خدمات کی برآمدات 929.87 ملین ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے اسی مہینے کے 806.14 ملین ڈالر کے مقابلے میں 15.35 فیصد زیادہ ہیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز مالی سال کے آغاز سے برآمدی آمدن بڑھانے والے اہم شعبوں میں شامل رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ان خدمات کی برآمدات 1.246 ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم 1.059 ارب ڈالر تھی، یعنی تقریباً 17.7 فیصد اضافہ ہوا۔

ستمبر کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدی آمدن 435 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے 368 ملین ڈالر کے مقابلے میں 18.21 فیصد زیادہ ہے۔ دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات بھی پہلی سہ ماہی میں 27.98 فیصد بڑھ کر 622 ملین ڈالر ہوگئیں، جبکہ ٹرانسپورٹ سروسز کی برآمدات 9.66 فیصد اضافے کے ساتھ 295 ملین ڈالر رہیں۔

دوسری جانب خدمات کی درآمدات بھی تیزی سے بڑھیں۔ جولائی سے ستمبر کے دوران درآمدی خدمات کی مالیت 16.32 فیصد اضافے سے 3.55 ارب ڈالر ہوگئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.05 ارب ڈالر تھی۔ ستمبر میں خدمات کی درآمدات 26.38 فیصد بڑھ کر 1.21 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ درآمدات میں ٹرانسپورٹ اور سفری خدمات کا حصہ نمایاں رہا۔

برآمدات اور درآمدات دونوں میں اضافے کے باوجود پہلی سہ ماہی میں خدمات کا تجارتی خسارہ تقریباً مستحکم رہا۔ خسارہ 0.33 فیصد کم ہو کر 832.16 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 834.88 ملین ڈالر تھا۔ تاہم صرف ستمبر میں خدمات کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 84 فیصد بڑھ کر 282.76 ملین ڈالر ہوگیا۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ٹی اور کاروباری خدمات کی برآمدی رفتار مجموعی خدماتی برآمدات کو سہارا دے رہی ہے، جبکہ درآمدی خدمات میں تیز اضافہ بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔