اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے 10 اکتوبر کو ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات کو زیادہ وسیع اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری اشتراک میں بدلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو اہم قرار دیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں طرف موجود سیاسی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری رابطوں کے لیے عملی اقدامات کی گنجائش بھی ہے۔ رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں جاری تعاون کی پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا، تاہم گفتگو میں کسی نئی سرمایہ کاری کی حتمی رقم یا کسی نئے تجارتی معاہدے کے مکمل ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
بات چیت میں اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کے قیام اور اسے فعال بنانے کے کام کا بھی ذکر ہوا۔ اس سہولت کی بنیاد آذربائیجان کے اے ایس اے این خدمت ماڈل پر ہے، جس کا مقصد سرکاری خدمات شہریوں کے لیے ایک ہی جگہ سے زیادہ آسان اور منظم انداز میں دستیاب کرنا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے اس ماڈل کو پاکستان میں دوسرے مقامات تک پھیلانے کے لیے آذربائیجان کی مہارت اور تعاون کی درخواست کی، جس پر صدر علیوف نے حمایت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیراعظم نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مکالمے کی حوصلہ افزائی اور سفارتی رابطوں کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آذربائیجان کے صدر کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق صدر علیوف نے امن اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔
پاکستان اور آذربائیجان کے مابین اعلیٰ سطحی روابط پہلے سے جاری ہیں اور دونوں حکومتیں ان روابط کو اقتصادی نتائج سے جوڑنے پر زور دے رہی ہیں۔ موجودہ ٹیلیفونک گفتگو اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ آسان خدمت مراکز میں تعاون کا عملی دائرہ، تجارت میں ممکنہ اضافہ اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی پیش رفت متعلقہ اداروں کے اگلے اقدامات سے واضح ہوگی۔ سرکاری بیان میں بیان کردہ ارادوں اور مستقبل میں حاصل ہونے والے نتائج کے درمیان فرق برقرار رکھنا اہم ہے۔
