کراچی: پاکستان کا مجموعی ادائیگیوں کا توازن ستمبر 2026 میں 4 ارب 39 کروڑ ڈالر خسارے میں چلا گیا، جبکہ اگست میں یہ خسارہ 11 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اسی دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگیا، جو بیرونی ادائیگیوں پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر میں مجموعی بیلنس آف پیمنٹس 3 ارب 12 کروڑ ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس تبدیلی میں اشیا کی تجارت کا بڑھتا ہوا خسارہ اہم عنصر رہا۔ پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 21.1 فیصد بڑھ کر 9 ارب 33 کروڑ ڈالر ہوگیا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے زیادہ رہی۔
جولائی تا ستمبر اشیا کی درآمدات 14.3 فیصد اضافے کے ساتھ 17 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچیں، جبکہ برآمدات 7.7 فیصد بڑھ کر 8 ارب 45 کروڑ ڈالر رہیں۔ ستمبر میں برآمدات سالانہ بنیاد پر 15.5 فیصد بڑھ کر 3 ارب 2 کروڑ ڈالر ہوئیں، لیکن درآمدات 22.7 فیصد بڑھ کر 6 ارب 17 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ نتیجتاً ماہانہ تجارتی خسارہ 3 ارب 16 کروڑ ڈالر رہا۔
خدمات کی برآمدات پہلی سہ ماہی میں 22.8 فیصد بڑھ کر 2 ارب 72 کروڑ ڈالر ہوئیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز سے 1 ارب 25 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ دیگر کاروباری خدمات اور سفری خدمات کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم خدمات کی درآمدات بھی بڑھ کر 3 ارب 55 کروڑ ڈالر ہوگئیں، جس کے بعد خدمات کا تجارتی خسارہ 83 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا۔
بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے بیرونی کھاتے کو اہم سہارا دیا۔ پہلی سہ ماہی میں ترسیلات 14 فیصد بڑھ کر 10 ارب 88 کروڑ ڈالر ہوگئیں، اگرچہ ستمبر میں ماہانہ ترسیلات اگست کے 3 ارب 66 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 3 ارب 59 کروڑ ڈالر رہیں۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پہلی سہ ماہی میں 20 فیصد بڑھ کر 72 کروڑ ڈالر ہوئی، لیکن ستمبر میں ماہانہ ایف ڈی آئی 21 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی جو اگست کے 32 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے کم تھی۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں جولائی تا ستمبر تقریباً 2 ارب 93 کروڑ ڈالر کا خالص ان فلو ریکارڈ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 63 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج تھا۔
تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترسیلات، خدمات کی برآمدات اور سرمایہ کاری میں بہتری کے باوجود درآمدی ادائیگیوں اور تجارتی خسارے کا دباؤ بیرونی کھاتے پر غالب رہا۔ آنے والے مہینوں میں درآمدات، برآمدات، عالمی توانائی قیمتیں اور بیرونی فنانسنگ پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کی سمت کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔
