اسلام آباد: پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار اگست 2026 میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 0.67 فیصد بڑھی، لیکن جولائی 2026 کے مقابلے میں 4.96 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ 113.19 رہا، جو اگست 2025 میں 112.45 اور جولائی 2026 میں 119.10 تھا۔
رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اور اگست میں بڑی صنعتوں کی مجموعی پیداوار گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.85 فیصد بڑھی۔ اس عرصے کے لیے انڈیکس 116.14 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جولائی تا اگست 2025-26 میں یہ 114.03 تھا۔ یہ اعداد و شمار صنعتی سرگرمی میں سالانہ بنیاد پر محدود بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم اگست کی ماہانہ کمی سے پیداوار کی رفتار میں اتار چڑھاؤ واضح ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض صنعتی شعبوں میں اسٹیل اور کھاد کی پیداوار میں کمزوری نے مجموعی کارکردگی کو متاثر کیا۔ ٹرانسپورٹ سے متعلق رکاوٹوں نے ملبوسات کی پیداوار پر اثر ڈالا، جبکہ گاڑیوں پر ٹیکس اور طلب کے عوامل آٹو شعبے کی فروخت اور پیداوار کے لیے دباؤ کا باعث بنے۔ مختلف صنعتوں کی کارکردگی یکساں نہیں رہی، جس کی وجہ سے مجموعی انڈیکس میں سالانہ اضافہ محدود رہا۔
بڑی صنعتوں کا اشاریہ پاکستان کی صنعتی معیشت کا اہم پیمانہ ہے کیونکہ اس میں خوراک، ٹیکسٹائل، پیٹرولیم، کیمیکل، ادویات، آٹوموبائل، اسٹیل، کھاد اور دیگر بڑے پیداواری شعبے شامل ہوتے ہیں۔ اس اشاریے میں تبدیلی روزگار، برآمدات، ٹیکس وصولیوں اور مجموعی معاشی نمو کے امکانات سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
اگست کی ماہانہ 4.96 فیصد کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سالانہ بنیاد پر مثبت شرح کے باوجود صنعت کو قلیل مدت میں کمزور طلب، پیداواری لاگت، ٹرانسپورٹ مسائل اور پالیسی سے متعلق رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دوسری طرف پہلے دو ماہ کی 1.85 فیصد مجموعی نمو اس بات کی علامت ہے کہ صنعتی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں مکمل طور پر منفی نہیں ہوئی۔
آنے والے مہینوں میں توانائی کی قیمتیں، شرح سود، درآمدی خام مال کی دستیابی، ٹیکس پالیسی اور مقامی و برآمدی طلب بڑی صنعتوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوں گے۔ ابتدائی اعداد و شمار میں بعد میں نظرثانی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے صنعتی بحالی کی پائیداری کا اندازہ مزید ماہانہ ڈیٹا سامنے آنے کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔
