اسلام آباد: پاکستان بیورو شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 15 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی) کے تحت قلیل مدتی مہنگائی سال بہ سال 11.38 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضروری اشیائے خورونوش کی بلند قیمتیں سالانہ مہنگائی کی اہم وجہ رہیں، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مجموعی اشاریے میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
بیورو شماریات کی ہفتہ وار نگرانی میں شامل 51 ضروری اشیا میں سے 23 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، سات اشیا سستی ہوئیں جبکہ 21 اشیا کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کی سطح پر برقرار رہیں۔ یوں تقریباً 45 فیصد زیر نگرانی اشیا مہنگی ہوئیں۔ ہفتہ وار بنیاد پر ایس پی آئی میں 0.04 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف خوراکی اور غیر خوراکی اشیا میں قیمتوں کی نقل و حرکت یکساں نہیں رہی۔
قلیل مدتی مہنگائی کا یہ اشاریہ روزمرہ استعمال کی منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں تیز رفتار تبدیلی کو ناپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ہفتہ وار مہنگائی کئی ہفتوں سے دوہرے ہندسے میں موجود ہے۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق پٹرولیم مصنوعات سمیت بعض غیر خوراکی مدات میں سابقہ اضافوں نے بھی سالانہ تقابل کو بلند رکھا ہے، جبکہ خوراک کی متعدد بنیادی اشیا کے نرخ صارفین کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
سالانہ اور ہفتہ وار شرح میں فرق کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ 11.38 فیصد کی شرح گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ 0.04 فیصد کی ہفتہ وار کمی صرف فوری پچھلے ہفتے کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاس ہے۔ اس لیے ایک ہفتے کی محدود کمی کو عمومی قیمتوں میں وسیع اور مستقل کمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان بیورو شماریات کے اعداد و شمار پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے قیمتوں کے قلیل مدتی رجحان کا اہم پیمانہ ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں خوراک، توانائی اور نقل و حمل سے متعلق قیمتوں کی سمت یہ طے کرنے میں اہم ہوگی کہ سالانہ قلیل مدتی مہنگائی میں کمی آتی ہے یا یہ دوہرے ہندسے میں برقرار رہتی ہے۔
