بنکاک: پاکستان اور عالمی بینک گروپ نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2026 تا 2035 کو عملی ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے منصوبوں کی تیاری، مالی و تکنیکی معاونت اور عمل درآمد کے نظام کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور اور عالمی بینک میں پاکستان کے گورنر احد خان چیمہ نے بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز انا بیئرڈے سے ملاقات کی۔
سرکاری بیان کے مطابق احد چیمہ نے کہا کہ حکومت فریم ورک کے اہداف کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے مربوط کثیر شعبہ جاتی پروگرام، تکنیکی و مالی معاونت اور پیش رفت جانچنے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام اہم ہوں گے۔ انہوں نے منصوبوں کی پیشگی تیاری مضبوط بنانے کے لیے مخصوص پروجیکٹ ریڈینس سہولتوں، قابلِ پیش گوئی مالی وسائل اور بہتر عمل درآمدی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ منظوری اور تکمیل کے مراحل میں تاخیر کم ہو۔
بات چیت میں انسانی ترقی، موسمیاتی مزاحمت، پانی و صفائی اور معاشی تبدیلی جیسے شعبوں میں عالمی بینک کی معاونت زیرِ غور آئی۔ پاکستانی وزیر نے ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری پر زور دیا جہاں روزگار پیدا کرنے کی زیادہ گنجائش موجود ہو۔ انہوں نے ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈیشن اور تقریباً 1,800 کلومیٹر ریلوے لائن کے ساتھ مجوزہ اقتصادی ریلوے کوریڈور کے تصور کے لیے اضافی معاونت کا معاملہ بھی اٹھایا، جبکہ معدنیات کے شعبے کے لیے مجوزہ منرلز کمپیکٹ پر بھی گفتگو ہوئی۔
عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز نے پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور منصوبوں کے عملی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ترقیاتی مالی وسائل کو بروقت، پائیدار اور قابلِ پیمائش فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ ترجیحات پر تعاون مزید گہرا کیا جائے گا۔ ملاقات میں کسی ایک نئے قرض کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ موجودہ طویل مدتی فریم ورک کے مؤثر نفاذ پر توجہ مرکوز رہی۔

