بنکاک: پاکستان اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، کاروباری اداروں کی مالی رسائی بہتر بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تعاون کے نئے شعبوں پر بات چیت کی ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ نے بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوپ سے ملاقات کی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر نے پاکستان کی معاشی پالیسی میں میکرو اکنامک استحکام سے پائیدار نمو کی طرف منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے پیداواری سرمایہ کاری، برآمدات، جدت اور روزگار کو ترجیحی عوامل قرار دیا۔ وزارت کے مطابق آئی ایف سی کا پاکستان میں سرمایہ کاری پورٹ فولیو 2022 کے مقابلے میں چار گنا بڑھ کر 2026 میں تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچا ہے۔ یہ اعداد وزارت کے بیان میں دیے گئے ہیں اور انہیں نئی مالی منظوری کے طور پر نہیں پیش کیا گیا۔

احد چیمہ نے آئی ایف سی سرمایہ کاری کی ترجیحات کے لیے واضح معیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرمایہ ایسے شعبوں کی طرف جائے جو معاشی نمو، روزگار اور برآمدی مسابقت میں نمایاں حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے کاروبار، ہاؤسنگ فنانس، زراعت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو اہم شعبے قرار دیا۔ پاکستان نے جامع ایس ایم ای روڈ میپ، سمیڈا کی ادارہ جاتی استعداد اور کاروباروں کی فنانس تک رسائی بہتر بنانے میں آئی ایف سی کی معاونت طلب کی۔

ہاؤسنگ کے شعبے میں طویل مدتی نجی مالی وسائل اور رسک شیئرنگ آلات، جبکہ زراعت میں کسانوں کی فنانسنگ، ایگرو پروسیسنگ، برآمدی معیار اور گندم ذخیرہ کرنے کے نجی نظام پر بھی گفتگو ہوئی۔ آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے جامع حکمت عملی کی اہمیت اجاگر کی۔ مجوزہ فنڈ آف فنڈز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد اسٹارٹ اپس اور کاروباری ماحول کی معاونت ہے۔ دونوں فریقوں نے نجی شعبے کی قیادت میں نمو کے لیے تعاون گہرا کرنے پر اتفاق کیا، تاہم ملاقات میں کسی مخصوص نئے سرمایہ کاری پیکیج کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔