بنکاک: پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک گروپ نے 2026 سے 2030 کی رکن ملک شراکت داری حکمت عملی کے تحت تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے اشاریاتی مالی تعاون کو تیار شدہ منصوبوں، واضح منظوری کے مراحل اور مؤثر عمل درآمد میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ نے بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سلیمان الجاسر سے ملاقات کی۔

وزارت کے بیان کے مطابق مجوزہ مالی فریم ورک کو خودکار یا فوری طور پر دستیاب قرض تصور نہیں کیا گیا بلکہ یہ شراکت داری حکمت عملی کے تحت اشاریاتی مالی گنجائش ہے جسے مخصوص منصوبوں، منظوریوں، اجرا اور عمل درآمد کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ پاکستانی وزیر نے اسی لیے واضح منصوبہ جاتی پائپ لائن اور مالی منظوری و رقوم کے اجرا کے لیے متعین ٹائم لائنز کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات میں ایم 6 سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کی 475 ملین ڈالر کی فنانسنگ اور پاکستان کے پولیو خاتمہ پروگرام کے پانچویں مرحلے کے لیے حالیہ 100 ملین ڈالر کی منظوری کا بھی ذکر کیا گیا۔ احد چیمہ نے ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈیشن کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کی اضافی معاونت طلب کی اور منصوبے کی تیاری و عمل درآمد آگے بڑھانے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر شریک مالیاتی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کی ضرورت اجاگر کی۔

تجارت اور نجی سرمایہ متحرک کرنے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے مختلف اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی پر بھی بات ہوئی۔ وزارت کے مطابق مالی سال 2025-26 میں آئی ٹی ایف سی کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زیادہ تجارتی فنانسنگ متحرک کی گئی، جبکہ پاکستان نے آئندہ سہولتوں کے لیے زیادہ مسابقتی شرائط کی خواہش ظاہر کی۔ ڈاکٹر الجاسر نے پاکستان کی معاشی ترقی کی ترجیحات میں گروپ کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں فریقوں نے انفراسٹرکچر، تجارت، نجی شعبے اور صحت سمیت شعبوں میں نتائج پر مبنی شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔