بنکاک: پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2026 سے 2030 کی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کے تحت ترقیاتی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈیشن منصوبہ بات چیت کا مرکزی موضوع رہا۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور اور اے ڈی بی میں پاکستان کے گورنر احد خان چیمہ نے بنکاک میں 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اے ڈی بی کے صدر ماساتو کاندا سے ملاقات کی۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی وفد نے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے لیے اے ڈی بی کی نان سوورن سرگرمیوں میں توسیع اور پاکستان میں مضبوط مستقل موجودگی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاری کے لین دین اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی پائپ لائن بہتر بنائی جا سکے۔ وفد نے ترقیاتی قرضوں کی لاگت اور قرض دہی کے فریم ورک میں زیادہ لچک کا معاملہ بھی اٹھایا۔
ایم ایل ون کے حوالے سے احد چیمہ نے پاکستان کے ریلوے کوریڈور کو جدید بنانے، علاقائی رابطہ بہتر کرنے اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس نظام کی استعداد بڑھانے میں منصوبے کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے فزیبلٹی اسٹڈی جلد مکمل کرنے اور خریداری کے عمل کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت کے مطابق اے ڈی بی کے صدر ماساتو کاندا نے پاکستان کے ساتھ بینک کی مسلسل شمولیت کی توثیق کی اور ایم ایل ون کے لیے اے ڈی بی کے داخلی اور ادارہ جاتی عمل کو تیز کرنے میں مدد دینے کا عزم ظاہر کیا۔
ملاقات میں اے ڈی بی کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کو پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے اہم فریم ورک قرار دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار بڑھانے اور پائیدار ترقیاتی نتائج کے حصول کے لیے قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ یقین دہانی منصوبے کی فوری تکمیل یا نئی مالی منظوری کا اعلان نہیں، بلکہ اے ڈی بی کے متعلقہ ادارہ جاتی مراحل تیز کرنے اور تعاون جاری رکھنے کا عزم ہے۔

