پاکستان نے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ کے کلاسیفکیشن مرحلے میں جاپان کو 4-3 سے شکست دے کر عالمی کپ میں 16 سال بعد اپنی پہلی کامیابی حاصل کرلی۔ ایکسپریس اردو اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 22 اگست کی رپورٹس کے مطابق میچ نیدرلینڈز کے واگنر اسٹیڈیم، ایمسٹلوین میں کھیلا گیا اور آخری منٹوں تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ جاری رہا۔ ابتدائی گروپ مرحلے کے بعد یہ میچ 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے کلاسیفکیشن مقابلوں کا حصہ تھا، اس لیے فتح نے پاکستان کو ٹورنامنٹ کے اگلے درجہ بندی مرحلے میں بہتر پوزیشن کے لیے اہم پوائنٹس دیے۔
رپورٹس کے مطابق جاپان نے میچ میں پہلے برتری حاصل کی، لیکن پاکستان نے منظم واپسی کرتے ہوئے اسکور برابر کیا اور پھر برتری بنائی۔ قومی ٹیم کی جانب سے رانا وحید نے دو گول کیے، جبکہ حنان شاہد اور حماد نے ایک ایک گول اسکور کیا۔ جاپان نے بھی دفاعی دباؤ اور تیز حملوں کے ذریعے مقابلہ آخری وقت تک کھلا رکھا، تاہم پاکستانی کھلاڑیوں نے ایک گول کی برتری برقرار رکھتے ہوئے 4-3 سے کامیابی مکمل کی۔
یہ نتیجہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان چار مرتبہ عالمی چیمپئن رہ چکا ہے، مگر حالیہ دہائیوں میں عالمی سطح پر اس کی کارکردگی مسلسل دباؤ کا شکار رہی۔ قومی ٹیم 2023 کے عالمی کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکی تھی اور موجودہ ایڈیشن کے ابتدائی پول میں بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔ جاپان کے خلاف فتح ٹرافی کی دوڑ میں واپسی نہیں، البتہ کلاسیفکیشن مرحلے میں اعتماد بحال کرنے اور بہتر اختتامی پوزیشن حاصل کرنے کا موقع ضرور ہے۔
پاکستان کی عالمی کپ میں اس سے قبل آخری کامیابی 2010 میں ریکارڈ ہوئی تھی، اس لیے 16 سال کا وقفہ قومی ہاکی کی مشکلات کی ایک واضح علامت ہے۔ اس عرصے میں انتظامی عدم استحکام، کھلاڑیوں کی تیاری، جدید کھیل کے تقاضوں اور مستقل بین الاقوامی مقابلوں کی کمی جیسے مسائل بار بار زیر بحث آئے۔ جاپان کے خلاف ایک میچ کی فتح ان ساختی مشکلات کا مکمل حل نہیں، مگر نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے امتزاج کے لیے مثبت نتیجہ ہے۔
آئندہ کلاسیفکیشن مقابلوں میں پاکستان کو دفاعی نظم، پنالٹی کارنر کے استعمال اور آخری کوارٹر میں گیند پر کنٹرول بہتر رکھنا ہوگا۔ جاپان نے تین گول کرکے دکھایا کہ قومی ٹیم کا دفاع دباؤ میں غلطی کرسکتا ہے۔ اس کامیابی کی اصل قدر تب بڑھے گی جب پاکستان باقی میچوں میں بھی تسلسل دکھائے اور ٹورنامنٹ کا اختتام ممکنہ حد تک بہتر پوزیشن پر کرے۔ فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ پاکستان کی 4-3 فتح اور عالمی کپ میں 16 سال بعد پہلی کامیابی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




