پاکستان اور بیلجیم نے بلیو اکانومی، بندرگاہی انتظام، شپنگ اور سمندری تجارت کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سرکاری سطح کی ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان کے طویل ساحل، بندرگاہوں اور سمندری وسائل کو تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی سرگرمی کے لیے زیادہ مؤثر استعمال کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلیو اکانومی میں بندرگاہیں، شپنگ، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری قابل تجدید توانائی اور بحری خدمات جیسے شعبے شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان کی بیشتر بیرونی تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے، اس لیے بندرگاہی کارکردگی اور لاجسٹکس میں بہتری برآمدات اور درآمدی لاگت دونوں کے لیے اہم ہے۔
بیلجیم یورپ کے اہم بندرگاہی اور لاجسٹکس مراکز میں شامل ہے اور اینٹورپ بروژ بندرگاہ عالمی تجارت میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایسے تجربے سے پورٹ مینجمنٹ، ڈیجیٹل لاجسٹکس، ماحول دوست شپنگ اور نجی سرمایہ کاری کے شعبوں میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ملاقات میں کسی مخصوص سرمایہ کاری رقم یا حتمی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو تعاون کے امکانات کی نشاندہی اور ادارہ جاتی رابطے کے آغاز کے طور پر دیکھا جائے گا۔ عملی منصوبوں کے لیے کمپنیوں، بندرگاہی حکام اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔
پاکستانی حکومت بحری شعبے میں اصلاحات اور قومی شپنگ صلاحیت بڑھانے کو معاشی حکمت عملی کا حصہ بنا رہی ہے۔ بیلجیم کے ساتھ تعاون اگر سرمایہ کاری، تربیت یا بندرگاہی ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی تجارت اور بحری معیشت کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ پائیداری کے لیے سمندری ماحول، ماہی گیری کے وسائل اور ساحلی آبادیوں کے مفادات کا تحفظ بھی بلیو اکانومی پالیسی کا لازمی حصہ ہوگا۔




