پنجاب میں فلور ملز اور متعلقہ حکام کے درمیان سرکاری گندم کے معیار پر تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے لیبارٹری ٹیسٹ اور معائنوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فراہم کی جانے والی بعض گندم میں نمی کی سطح 21 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ معمول کے معیار کو تقریباً 9 سے 11 فیصد بتایا گیا ہے۔

زیادہ نمی گندم کے وزن، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، فنگس اور آٹے کے معیار پر اثر ڈال سکتی ہے۔ طویل عرصے تک نم گندم ذخیرہ کرنے سے خراب ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے، اس لیے خریداری اور ذخیرہ کاری میں نمی ایک اہم تکنیکی معیار ہے۔

یہ اعداد و شمار فلور ملز تنظیم کے دعوے پر مبنی ہیں اور ہر سرکاری گندم اسٹاک کی یکساں حالت ثابت نہیں کرتے۔ حتمی نتیجے کے لیے نمائندہ نمونوں کی آزاد لیبارٹری جانچ اور سرکاری ریکارڈ کا موازنہ ضروری ہوگا۔

گندم کی فراہمی کا معیار براہ راست آٹے کی پیداوار، قیمت اور صارفین تک پہنچنے والی مصنوعات سے جڑا ہے۔ اگر نمی زیادہ ہو تو ملز کو قابل استعمال گندم کی حقیقی مقدار اور پیداواری لاگت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف معیار کے تنازع سے سپلائی میں تاخیر بھی مارکیٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

پنجاب حکومت اور صنعت کے لیے فوری ضرورت شفاف سیمپلنگ اور مشترکہ ٹیسٹنگ کا طریقہ قائم کرنا ہے تاکہ معیار پر اختلاف کو قابل تصدیق ڈیٹا سے حل کیا جا سکے۔ گندم کی بڑی سرکاری خریداری اور اجرا میں وزن کے ساتھ معیار کی مستقل نگرانی صارفین اور قومی وسائل دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔