پاکستان میں غذائیت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور کاروباری نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ پالیسی کے عدم تسلسل اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان کمزور رابطے سے غذائیت میں ضروری سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خوراک کے معیار، فورٹیفکیشن اور بچوں و خواتین کی غذائی ضروریات کے لیے طویل مدتی حکمت عملی پر زور دیا۔

پاکستان کو بچوں میں قد کی کم نشوونما، مائیکرونیوٹرینٹ کی کمی اور ماں و بچے کی غذائیت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ غذائی قلت صحت کے ساتھ تعلیم، پیداواری صلاحیت اور مستقبل کی آمدن پر بھی اثر ڈالتی ہے، اس لیے اسے صرف صحت کے شعبے کا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔

نجی صنعت آٹا، خوردنی تیل، دودھ اور دیگر خوراکی مصنوعات کی فورٹیفکیشن میں کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن سرمایہ کاری کے لیے معیار، لیبلنگ، ٹیکس اور نفاذ کے قواعد میں پیش گوئی ضروری ہوتی ہے۔ بار بار پالیسی تبدیلی کمپنیوں کے لیے نئی پیداواری لائن یا غذائی ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگانا مشکل بنا سکتی ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم بھی اہم ہے کیونکہ صحت اور خوراک کے متعدد معاملات صوبائی سطح پر نافذ ہوتے ہیں جبکہ قومی معیار اور درآمدی پالیسی وفاقی اداروں سے جڑی ہو سکتی ہے۔ مؤثر حکمت عملی کے لیے مشترکہ ڈیٹا اور واضح اہداف درکار ہیں۔

ماہرین کی سفارشات پالیسی مطالبات ہیں، کسی نئے حکومتی پروگرام کی منظوری نہیں۔ حقیقی پیش رفت اس وقت ہوگی جب غذائیت کے اشاریوں کو بجٹ، زرعی پالیسی، خوراک کے معیار اور سماجی تحفظ کے پروگراموں میں مسلسل ترجیح ملے۔ سرمایہ کاری کا مقصد صرف مصنوعات کی فروخت نہیں بلکہ کم آمدن گھرانوں تک محفوظ اور غذائیت بخش خوراک کی قابل استطاعت رسائی ہونا چاہیے۔