اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول کی بلند قیمتوں سے متاثر ہونے والے موٹر سائیکل سواروں کے لیے محدود مدت کی ماہانہ نقد امداد اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سینئر حکومتی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسکیم شروع کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے اور ابتدائی طور پر اسے تین ماہ کے لیے نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی سطح پر تقریباً 2,000 روپے ماہانہ فی موٹر سائیکل سوار امداد کی تجویز زیر غور ہے، تاہم حتمی رقم وزیراعظم طے کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس امداد کا مقصد پٹرول کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں کے اثرات کا جزوی ازالہ کرنا ہے۔ اسکیم کی ادائیگی اور مستحق افراد کی شناخت کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کو طریقہ کار تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اخبار کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ریلیف کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی وزارتِ خزانہ نے پٹرولیم لیوی کم کرنے اور اس کے ممکنہ مالیاتی اثر کو پورا کرنے کے لیے 430 ارب روپے کے ہنگامی فنڈ کے استعمال کی تجویز کی مخالفت برقرار رکھی ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بعض وفاقی وزرا نے لیوی کم کرنے کے لیے اسی فنڈ سے مدد لینے کی تجویز دی تھی، لیکن وزارتِ خزانہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسا قدم آئی ایم ایف پروگرام کے مالیاتی اہداف سے متعلق پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال میں حکومت پٹرول پر فی لیٹر تقریباً 106 روپے اور ڈیزل پر تقریباً 101 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد عوامی دباؤ بڑھا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق مجوزہ 2,000 روپے ماہانہ امداد آج کی بلند پٹرول قیمتوں کے مقابلے میں محدود ریلیف فراہم کرے گی اور یہ وسیع پیمانے پر مہنگائی کے دباؤ کو ختم نہیں کر سکتی۔ ناقدین یہ نکتہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر اسکیم صرف موٹر سائیکل مالکان تک محدود رہی تو چھوٹی گاڑیوں کے مالکان اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد کو براہِ راست فائدہ نہیں پہنچے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے منظور شدہ ہنگامی فنڈ میں سے ایک حصہ خرچ نہ ہو سکا تھا، جبکہ پٹرولیم لیوی سے وصولیاں بجٹ تخمینے سے زیادہ رہیں۔ وزارتِ خزانہ نے اخبار کے بعض سوالات کا جواب نہیں دیا۔ اس لیے 430 ارب روپے کے فنڈ کے استعمال، امداد کی حتمی رقم، اہلیت کے معیار اور ادائیگی کے نظام سے متعلق تفصیلات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں۔ حکومت کی جانب سے باضابطہ طریقہ کار جاری ہونے کے بعد اسکیم کے دائرہ کار اور عملی نفاذ کی واضح تصویر سامنے آئے گی۔