سعودی عرب کی مشرقی تیل تنصیبات کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے جوڑنے والی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش نے عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ روئٹرز نے 13 ستمبر کو سعودی تیل کے خریداروں اور تاجروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اگر یہ پائپ لائن چند دن کے اندر دوبارہ فعال نہ ہوئی تو سعودی برآمدی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی تیل رسد کے تقریباً 4 فیصد کے برابر حجم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں کے بعد جمعے کو پائپ لائن بند کی گئی۔ سعودی حکام نے نقصان کی مکمل نوعیت یا مرمت کے دورانیے کے بارے میں تفصیلی سرکاری تخمینہ جاری نہیں کیا۔ روئٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کی آرا مختلف تھیں: ایک ذریعے نے کہا کہ مکمل مرمت میں پانچ سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق جزوی پمپنگ مرمت کے دوران اس سے پہلے بھی بحال ہو سکتی ہے۔ یہ تخمینے سرکاری تصدیق نہیں بلکہ صنعت سے وابستہ ذرائع کی معلومات ہیں۔
یہ پائپ لائن گزشتہ کئی ماہ سے اس لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی تھی کہ آبنائے ہرمز میں جنگی حالات اور نقل و حرکت میں کمی کے باعث سعودی عرب نے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل صحرائی راستے سے ینبع منتقل کرنا شروع کر رکھا تھا۔ یہ مقدار عالمی تیل رسد کے لگ بھگ 4 فیصد کے برابر بنتی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ینبع میں موجود ذخائر موجودہ برآمدی رفتار کو تقریباً پانچ سے سات دن تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس مصر کی عین سخنہ اور سیدی کریر بندرگاہوں پر بھی کچھ ذخائر موجود ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق پائپ لائن بحال نہ ہونے کی صورت میں یہ ذخائر بھی محدود مدت ہی تک مدد دے سکیں گے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ رواں سال عالمی تیل رسد میں 57 لاکھ بیرل یومیہ تک کمی آ سکتی ہے۔ روئٹرز کے مطابق سعودی پیداوار بھی اگست میں کم ہو کر 62 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ فروری میں یہ 1 کروڑ 9 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ اس پس منظر میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی طویل بندش پہلے سے دباؤ کا شکار توانائی منڈی، ایندھن کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی پر مزید اثر ڈال سکتی ہے۔




