اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گیس شعبے کے تقریباً 3.6 ٹریلین روپے کے گردشی قرض کو تین سال میں ختم کرنے کے لیے ایک مجوزہ منصوبہ تیار کیا ہے، جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ستمبر کے آخر میں ہونے والے معاشی جائزہ مذاکرات کے دوران زیرِ بحث لایا جائے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی حتمی شکل آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد طے ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گیس شعبے کے مجموعی گردشی قرض میں تقریباً 2.1 ٹریلین روپے سود اور 1.5 ٹریلین روپے اصل واجبات شامل ہیں۔ مجوزہ حکمت عملی کے تحت پہلے سال 528 ارب روپے، دوسرے سال 473 ارب روپے اور تیسرے سال 433 ارب روپے قرض کم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ اس فریم ورک کو آئی ایم ایف کے سامنے پیش کرے گی اور مذاکرات کے بعد اس کے مختلف اجزا پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
مجوزہ طریقہ کار میں گیس کمپنیوں کے 840 ارب روپے کے ڈیویڈنڈ کو گردشی قرض میں کمی کے لیے استعمال کرنے کی تجویز شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 270 ارب روپے پٹرولیم لیوی سے حاصل کرنے، قطر سے اضافی ایل این جی کارگوز مؤخر کر کے تقریباً 310 ارب روپے کی ذمہ داری کم کرنے، بجلی کے شعبے کے ٹیک اور پے انتظامات کے ذریعے 15 ارب روپے اور ایل این جی کی مکمل لاگت وصول کر کے 60 ارب روپے کی کمی لانے کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ گردشی قرض پر عائد سود کے معاملے کو منصوبے کے تحت الگ سے نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم ایل این جی کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کرنے کی صورت میں گیس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ اس پہلو کی وجہ سے منصوبے کے مالی اثرات کے ساتھ صارفین پر ممکنہ بوجھ بھی پالیسی بحث کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔
گیس شعبے کا گردشی قرض کئی سال سے توانائی معیشت کے بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ واجبات کے مسلسل جمع ہونے سے گیس کمپنیوں، درآمدی ادائیگیوں اور سرکاری مالیاتی ذمہ داریوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ حکومت کا موجودہ منصوبہ اس مسئلے کو مرحلہ وار کم کرنے کی کوشش ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار آئی ایم ایف سے طے ہونے والے حتمی فریم ورک، کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کی دستیابی، محصولات کی وصولی اور ایل این جی انتظامات پر ہوگا۔
چونکہ منصوبہ ابھی مجوزہ مرحلے میں ہے، اس لیے اسے حتمی سرکاری فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ آئندہ جائزہ مذاکرات میں اس کی تفصیلات پیش کرے گی، جس کے بعد عملی نفاذ، سالانہ اہداف اور صارفین پر ممکنہ قیمت اثرات زیادہ واضح ہوں گے۔




