اوپن بجٹ سروے کے تازہ نتائج میں پاکستان کا بجٹ شفافیت اسکور 2023 کے 30 سے بڑھ کر 2025 میں 45 بتایا گیا ہے۔ دو سال میں 15 پوائنٹس کا اضافہ 50 فیصد بہتری بنتا ہے اور پاکستان نئے اسکور کے ساتھ سروے کی عالمی اوسط 45 تک پہنچ گیا ہے۔ یہ پیمانہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ حکومت بجٹ سے متعلق بنیادی دستاویزات کتنی بروقت، جامع اور عوامی رسائی کے قابل بناتی ہے۔ اسکور بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں، ماہرین، پارلیمان اور میڈیا کو مالی فیصلوں کے بارے میں پہلے کی نسبت زیادہ معلومات دستیاب ہو رہی ہیں، لیکن 100 میں سے 45 اب بھی مکمل شفافیت سے کافی فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ کیے گئے علاقائی موازنے میں بھارت کا اسکور 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 بتایا گیا۔ پاکستان کی بہتری میں انتظامیہ کی بجٹ تجویز سے متعلق اسکور کا 43 سے 57 اور منظور شدہ بجٹ کا 33 سے 50 ہونا نمایاں ہے۔ عوامی شرکت کا اسکور بھی 15 سے بڑھ کر 22 ہوا۔ یہ الگ اشاریے اہم ہیں کیونکہ بجٹ دستاویز شائع ہونا اور عوام کا فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دو مختلف چیزیں ہیں۔ معلومات دستیاب ہونے کے باوجود اگر تجاویز کے لیے مناسب وقت، سماعتیں اور جواب دہی نہ ہو تو شمولیت محدود رہتی ہے۔

بجٹ شفافیت عام شہری کے لیے محض تکنیکی درجہ بندی نہیں۔ ٹیکس کہاں سے آ رہا ہے، قرض کتنا لیا جا رہا ہے، تعلیم اور صحت پر کیا خرچ ہو رہا ہے، سبسڈی کس کو مل رہی ہے اور ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہو رہے ہیں یا نہیں—ان سوالات کے قابل اعتماد جواب عوامی وسائل کے بہتر استعمال سے تعلق رکھتے ہیں۔ تفصیلی اور قابل تلاش دستاویزات بدعنوانی کے خطرات کم کرنے، پالیسی ترجیحات سمجھنے اور پارلیمانی نگرانی مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ کاروباری طبقے کے لیے بھی واضح مالی پالیسی سرمایہ کاری اور قیمتوں سے متعلق فیصلوں میں غیر یقینی کم کرتی ہے۔

اسکور میں اضافے کے باوجود متعدد اصلاحی میدان باقی ہیں۔ بجٹ سے پہلے عوامی مشاورت کو زیادہ باقاعدہ بنایا جا سکتا ہے، وزارتوں کے اخراجات اور نتائج کو ایک ہی قابل موازنہ شکل میں شائع کیا جا سکتا ہے اور وسط سال و سالانہ جائزوں میں اصل اخراجات کا منظور شدہ بجٹ سے واضح تقابل دیا جا سکتا ہے۔ سرکاری اداروں کے مالی خطرات، ٹیکس مراعات، ضمنی گرانٹس اور صوبائی مالی روابط کی جامع تفصیل بھی شہریوں کو مجموعی تصویر سمجھنے میں مدد دے گی۔ دستاویزات کا بروقت اجرا ضروری ہے کیونکہ دیر سے ملنے والی معلومات فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے کا موقع محدود کر دیتی ہیں۔

اوپن بجٹ سروے ایک آزاد بین الاقوامی تقابلی جائزہ ہے، اس لیے اس کی بہتری کو اصلاحاتی سمت کا مثبت اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، نہ کہ مالی نظام کے تمام مسائل کے حل کی سند۔ اگلا ہدف صرف اسکور بڑھانا نہیں بلکہ بجٹ معلومات کو قابل فہم، مشین سے پڑھے جانے کے قابل اور عوامی مباحثے کے لیے کارآمد بنانا ہونا چاہیے۔ اگر حکومت دستاویزات کے معیار کے ساتھ پارلیمانی نگرانی اور شہری شرکت کو بھی مسلسل بہتر کرے تو شفافیت کی موجودہ پیش رفت زیادہ مضبوط مالی جواب دہی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔