پاکستان نے اقوام متحدہ میں بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے ایک جامع، قابل تصدیق اور قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی مواصلات، موسمیات، نیویگیشن، آفات کے انتظام اور ترقی کے لیے بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے، اس لیے خلا کو مسلح تصادم کے نئے میدان میں تبدیل ہونے سے روکنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستانی موقف کے مطابق اعتماد سازی کے رضاکارانہ اقدامات اور سیاسی اعلانات مفید ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایسے قانونی قواعد کا متبادل نہیں جو تمام ریاستوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں اور خلاف ورزی کی صورت میں واضح ذمہ داری طے کریں۔ اسلام آباد نے بیرونی خلا میں ہتھیار رکھنے، طاقت کے استعمال یا طاقت کی دھمکی سے متعلق قواعد کو مضبوط کرنے اور تصدیق کے قابل انتظامات پر مذاکرات کی حمایت کی۔
خلائی سلامتی پر عالمی بحث حالیہ برسوں میں سیٹلائٹ مخالف صلاحیتوں، فوجی خلائی نظام، سائبر خطرات اور تجارتی سیٹلائٹس کے دفاعی استعمال کے باعث زیادہ پیچیدہ ہوئی ہے۔ موجودہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً 1967 کا آؤٹر اسپیس ٹریٹی، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق بعض پابندیاں فراہم کرتا ہے، لیکن تمام اقسام کے خلائی ہتھیاروں یا زمین سے خلائی اثاثوں کے خلاف تمام ممکنہ کارروائیوں کے لیے جامع پابندی موجود نہیں۔
پاکستان نے اس خلا کو پُرامن مقاصد کے لیے تمام ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ریاستوں، کی مساوی رسائی کے تناظر میں بھی اٹھایا۔ سیٹلائٹ خدمات زراعت، موسمیاتی نگرانی، آفات کی پیشگی اطلاع اور مواصلاتی رابطوں میں بڑھتی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے بڑے طاقتوں کے درمیان خلائی عسکری مقابلہ ان ممالک کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو خود فوجی خلائی پروگرام نہیں رکھتے۔
یہ مطالبہ کسی نئے معاہدے کے طے پا جانے کا اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی مذاکراتی پوزیشن ہے۔ قانونی طور پر پابند عالمی معاہدے کے لیے بڑی خلائی طاقتوں سمیت وسیع بین الاقوامی اتفاق رائے، ہتھیار کی تعریف، تصدیق کے طریقۂ کار اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی سے متعلق پیچیدہ سوالات حل کرنا ہوں گے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ انہی مشکلات کے باوجود باقاعدہ مذاکرات ناگزیر ہیں تاکہ خلا کو طویل مدت تک پُرامن، محفوظ اور پائیدار رکھا جا سکے۔

