پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی صورتحال پر بحث کے دوران جنگ بندی کے مکمل احترام، شہری آبادی کے تحفظ اور ضرورت مند فلسطینیوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے مستقل نمائندے نے کونسل کو بتایا کہ کسی بھی جنگ بندی کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین اس کی شرائط پر عمل کریں اور خوراک، ادویات، ایندھن اور دوسری بنیادی ضروریات کی فراہمی کو سیاسی یا فوجی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

پاکستان نے غزہ میں انسانی حالات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور اس کے امدادی اداروں کو محفوظ اور مؤثر رسائی دینے پر زور دیا۔ پاکستانی موقف کے مطابق جنگ بندی صرف فوری تشدد روکنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اسے مستقل سیاسی حل کی جانب پیش رفت کا موقع بننا چاہیے۔ اسلام آباد نے فلسطینی شہریوں کی جبری نقل مکانی کی مخالفت اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کی ضرورت بھی دہرائی۔

سلامتی کونسل میں پاکستان نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کے تحت ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے موقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔ موجودہ بیان اسی سفارتی پالیسی کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔

غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کی بحث ایسے وقت میں ہوئی جب جنگ بندی کے نفاذ، انسانی امداد کی مقدار اور رسائی، شہری تحفظ اور بعد از جنگ انتظامات پر عالمی سطح پر اختلافات موجود ہیں۔ مختلف فریق واقعات اور ذمہ داریوں کی تشریح مختلف انداز میں کرتے ہیں، اس لیے پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے سیاسی اور قانونی نکات کو اس کے سرکاری سفارتی موقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور انسانی بحران کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ عارضی انتظامات تبھی دیرپا استحکام میں بدل سکتے ہیں جب سیاسی افق واضح ہو، فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے اور مذاکراتی عمل کو قابل اعتماد بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔ سلامتی کونسل میں یہ بیان کسی نئے امن معاہدے کا اعلان نہیں بلکہ جنگ بندی اور سیاسی حل کے حق میں پاکستان کے سفارتی مطالبات کی تازہ توثیق ہے۔