اسلام آباد: پاکستان اور کینیڈا نے مجوزہ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر مذاکرات کا تیسرا دور مکمل کرلیا ہے اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کا مقصد ایسا قانونی فریم ورک تیار کرنا ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے، کاروباری روابط کو وسعت دے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ واضح قواعد فراہم کرے۔
مذاکرات میں براہ راست اور بالواسطہ سرمایہ کاری، پورٹ فولیو سرمایہ کاری، کارکردگی سے متعلق شرائط، ضبطی یا expropriation، تیسرے فریق کی فنڈنگ اور سرمایہ کار و ریاست کے درمیان تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار سمیت کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہ نکات کسی بھی جدید سرمایہ کاری معاہدے میں اہم ہوتے ہیں کیونکہ ان سے سرمایہ کاروں کے حقوق کے ساتھ ریاست کی ریگولیٹری گنجائش اور تنازع کی صورت میں قانونی راستے متعین ہوتے ہیں۔
کینیڈا کے وفد کی قیادت گلوبل افیئرز کینیڈا کی سینئر ٹریڈ پالیسی افسر ڈیفنی کیمپو نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت قانون و انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری خشیح الرحمٰن نے کی۔ مذاکرات کے اختتامی مرحلے میں وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ اور پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے بھی شرکت کی اور دونوں ٹیموں کی پیش رفت کو سراہا۔
تیسرے دور کا اختتام معاہدے کے نافذ ہوجانے کے مترادف نہیں ہے۔ حتمی متن پر اتفاق، متعلقہ حکومتی اور قانونی منظوریوں اور دونوں ممالک کے داخلی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد ہی معاہدہ مؤثر ہوسکے گا۔ اگر مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوتے ہیں تو یہ معاہدہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سرمایہ کاری کے لیے قواعد کو زیادہ واضح کرسکتا ہے، تاہم حقیقی سرمایہ کاری کا حجم کاروباری حالات، معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے تجارتی فیصلوں پر منحصر رہے گا۔

