پاکستان اور چین نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں کاروبار سے کاروبار تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت بیجنگ میں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز کے موقع پر منعقدہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں سامنے آئی، جہاں دونوں ملکوں کے کاروباری نمائندوں نے مشترکہ تجارتی امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے ایسے عملی مواقع پیدا کرنا ضروری ہے جن کے ذریعے تجارتی رابطے حقیقی شراکت داری اور قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل ہوسکیں۔ اجلاس میں خاص طور پر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نظام، جدید خدمات اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے کاروباری شعبوں کو باہمی تعاون کے اہم میدان قرار دیا گیا۔
شرکا نے ان شعبوں کی نشاندہی پر توجہ دی جہاں پاکستانی اور چینی اداروں کے مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔ کانفرنس نے کمپنیوں کو براہِ راست رابطے، ممکنہ شراکت داروں کی تلاش اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں کے ابتدائی خدوخال پر بات کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس نوعیت کے رابطوں کا مقصد سرکاری سطح کے دیرینہ تعلقات کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری، خدمات اور تکنیکی تعاون سے مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت میں تعاون سے مقامی کمپنیوں کو نئی مہارت، بہتر نظام اور وسیع منڈیوں تک رسائی کے امکانات مل سکتے ہیں۔ دوسری جانب چینی کاروباری اداروں کے لیے پاکستان ایک بڑی صارف منڈی، نوجوان افرادی قوت اور خطے سے جڑے تجارتی راستوں کی وجہ سے اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔ تاہم ان امکانات کو نتائج میں بدلنے کے لیے کاروباری قواعد، سرمایہ کاری کے طریقۂ کار، ڈیٹا کے تحفظ اور منصوبوں کے نفاذ سے متعلق واضح انتظامات ضروری ہوں گے۔
کانفرنس میں کسی مخصوص معاہدے، سرمایہ کاری کی حتمی مالیت یا منصوبے کی تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ پیش رفت بنیادی طور پر تعاون کے عزم اور ممکنہ تجارتی شعبوں کی نشاندہی سے متعلق ہے۔ آئندہ مرحلے میں کمپنیوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات اور قابلِ عمل منصوبوں کی تشکیل یہ طے کرے گی کہ بات چیت کس حد تک عملی سرمایہ کاری میں تبدیل ہوتی ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات پہلے ہی مختلف بنیادی ڈھانچے اور تجارتی منصوبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ نئی گفتگو میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خدمات کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک روایتی شعبوں کے ساتھ نئی معیشت کے امکانات پر بھی توجہ بڑھا رہے ہیں۔




