جنوبی کوریا میں جاسوسی سے متعلق فوجداری قانون کی اہم ترمیم 13 ستمبر سے نافذ ہو گئی ہے، جس کا مقصد سیمی کنڈکٹر، ڈسپلے، بیٹری اور مصنوعی ذہانت جیسی اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کے اخراج کے خلاف قانونی کارروائی کو مضبوط بنانا ہے۔ روئٹرز کے مطابق نئے قانون کے بعد جاسوسی کے جرائم کا دائرہ صرف شمالی کوریا یا روایتی ’دشمن ریاست‘ سے متعلق سرگرمیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کسی بھی غیر ملکی ملک یا اس کے مساوی ادارے کے فائدے کے لیے کی جانے والی جاسوسی بھی الگ جرم کے طور پر قابل سزا ہو گی۔
جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی نے ترمیم شدہ کریمنل ایکٹ 26 فروری 2026 کو منظور کیا تھا۔ قانون 12 مارچ کو نافذ العمل بنانے کے لیے جاری کیا گیا اور چھ ماہ کی عبوری مدت کے بعد 13 ستمبر سے عملی طور پر مؤثر ہو گیا۔ روئٹرز کے مطابق ترمیم میں ایک نیا جرم شامل کیا گیا ہے جس کے تحت کسی غیر ملکی ملک یا مساوی تنظیم کے لیے جاسوسی پر کم از کم تین سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دشمن ریاست کے فائدے کے لیے جاسوسی سے متعلق پہلے سے موجود دفعات بدستور برقرار ہیں۔
اس تبدیلی سے پہلے جنوبی کوریا میں جاسوسی کا روایتی فوجداری الزام عموماً ایسے معاملات تک محدود رہتا تھا جن میں شمالی کوریا کا فائدہ شامل ہو۔ دیگر ملکوں، کمپنیوں یا اداروں کے ساتھ صنعتی راز یا حساس ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے معاملات میں استغاثہ کو اکثر صنعتی ٹیکنالوجی کے تحفظ یا تجارتی رازوں سے متعلق دوسرے قوانین پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ قانون کے حامیوں کے مطابق اس خلا کی وجہ سے بعض حساس ٹیکنالوجی لیک کیسز میں نسبتاً کم سخت دفعات لاگو ہوتی تھیں۔
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے ترمیم کی منظوری کے وقت کہا تھا کہ اس سے سیمی کنڈکٹرز، ڈسپلے، بیٹریوں اور اے آئی جیسی قومی سطح کی اہم ٹیکنالوجیز کے غیر قانونی اخراج کو روکنے کی صلاحیت بہتر ہو گی۔ قانون ایسے وقت نافذ ہوا ہے جب عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں امریکا، چین، جنوبی کوریا، تائیوان اور دیگر بڑی معیشتوں کے درمیان ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کی مسابقت بڑھ رہی ہے۔
روئٹرز نے اس پس منظر میں گزشتہ سال کے ایک مقدمے کا بھی حوالہ دیا جس میں سام سنگ الیکٹرانکس کے پانچ سابق ملازمین پر اہم ڈی ریم چِپ ٹیکنالوجی چینی میموری چِپ بنانے والی کمپنی سی ایکس ایم ٹی کو منتقل کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ الزامات عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں ہیں۔ نئے قانون میں کسی مخصوص ملک کا نام درج نہیں کیا گیا۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اپنی کمپنیوں سے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق تعاون کا تقاضا کرتا ہے اور دیگر ممالک سے منصفانہ اور غیر امتیازی کاروباری ماحول کی توقع رکھتا ہے۔




