پاکستان نے اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی سیشن میں ڈیجیٹل اثاثوں، ٹوکنائزیشن اور بلاک چین پر مبنی مالی ٹیکنالوجیز کے لیے زیادہ مربوط عالمی ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک بنانے پر زور دیا ہے۔ وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے 12 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ بریفنگ سے ورچوئل خطاب کیا۔

سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ سیشن "Digital Assets and Blockchain for Sustainable Development: Advancing Digital Finance through Innovation" کے عنوان سے پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مشن نے UNDP، UNCTAD اور سیکریٹری جنرل کے نمائندہ برائے ٹیکنالوجی کے دفتر کے تعاون سے منعقد کیا۔ اجلاس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز اب صرف تجرباتی موضوعات نہیں رہے بلکہ یہ مالی نظام کی نئی ساخت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر مالی شمولیت، ادائیگیوں، ترسیلات زر، ڈیجیٹل شناخت، سرمایہ اکٹھا کرنے اور شفافیت جیسے شعبوں میں ان ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال کا ذکر کیا۔

انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ نئی ٹیکنالوجی کو خودکار حل سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، طاقت کے ارتکاز اور مختلف ممالک کی ریگولیٹری صلاحیت میں فرق جیسے خطرات موجود ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ضابطہ سازی کو جدت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ صارفین اور مارکیٹ دونوں کو تحفظ مل سکے اور سرگرمی غیر شفاف دائرے میں نہ چلی جائے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نمائندے نے ڈیجیٹل مالیات کو خاص طور پر ان افراد اور چھوٹے کاروباروں کے لیے اہم قرار دیا جو روایتی مالی نظام تک مکمل رسائی نہیں رکھتے۔ ٹوکنائزیشن کے ذریعے انفراسٹرکچر بانڈز یا قابل تجدید توانائی کے منصوبوں جیسے اثاثوں میں نئی سرمایہ کاری کے راستے پیدا ہونے کی صلاحیت بھی زیر بحث آئی، جبکہ ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کو سرکاری اخراجات اور سپلائی چین میں شفافیت بڑھانے کے ممکنہ ذریعہ کے طور پر پیش کیا گیا۔

پاکستان کی اپیل کسی واحد عالمی قانون کے فوری نفاذ کا اعلان نہیں بلکہ رکن ممالک کے درمیان زیادہ منظم تعاون اور مشترکہ ادارہ جاتی اصول بنانے کی پالیسی تجویز ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق بلال بن ثاقب نے اجلاس کو وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی شروعات بنانے پر زور دیا۔ پاکستان پہلے ہی اندرون ملک ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری ڈھانچہ قائم کرنے اور بین الاقوامی تجربات سے سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اقوام متحدہ میں یہ مؤقف اسی پالیسی سمت کی عالمی توسیع کے طور پر سامنے آیا ہے۔