وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفی کمال نے اسلام آباد میں تین کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں پاکستان۔چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔ وزارت صحت سے متعلق اس اجلاس میں معاہدوں کے عملی نفاذ، دوطرفہ تعاون اور دوا سازی و صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری آگے بڑھانے کے آئندہ اقدامات پر گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں ادویات کی سپلائی چین کی نگرانی اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے میڈیسن ٹریک اینڈ ٹریس نظام اور دو جہتی، یعنی 2D، بارکوڈ متعارف کرانے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم ٹیم متعلقہ نظام کے بارے میں بریفنگ اور عملی مظاہرہ فراہم کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد دوا کی تیاری سے لے کر تقسیم تک مصنوعات کی شناخت اور نگرانی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

شرکا نے اے جے ویکسینز کے 18 سے 22 اکتوبر تک اسلام آباد کے دورے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمپنی کا دورہ پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی پیداوار اور مینوفیکچرنگ میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے سے متعلق تھا۔ اجلاس میں اس تعاون کو پاکستان کی مقامی فارماسیوٹیکل پیداواری صلاحیت بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی وسیع کوششوں کے تناظر میں دیکھا گیا۔

یہ اجلاس کسی نئے حتمی سرمایہ کاری معاہدے کے اعلان کے بجائے پہلے سے طے شدہ بی ٹو بی مفاہمتوں اور منصوبوں کے نفاذ کی پیش رفت کا جائزہ تھا۔ اس لیے زیر بحث منصوبوں کو مکمل سرمایہ کاری یا پیداواری یونٹس کے قیام کے حتمی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اگلے مراحل میں کمپنیوں، وزارت صحت اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان تکنیکی اور انتظامی کام اہم ہوگا۔

پاکستان میں ادویات اور ویکسین کی مقامی تیاری کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی منتقلی، معیار کی نگرانی، ریگولیٹری منظوری اور سرمایہ کاری بنیادی عناصر ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق چین اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون سے مقامی مینوفیکچرنگ کی استعداد بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس اور 2D بارکوڈ جیسے نظام اس حکمت عملی کے ریگولیٹری حصے کو مضبوط کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا نفاذ دوا ساز کمپنیوں اور تقسیم کے پورے نیٹ ورک میں یکساں طور پر ہو۔