اسلام آباد: پاکستان اور چین نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی پیش رفت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر قریبی رابطہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بات چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائسنگ کے دورہ پاکستان کے دوران ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتوں میں سامنے آئی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وفد سے ملاقات میں پاکستان اور چین کے تعلقات کو باہمی اعتماد، احترام اور عوامی روابط پر مبنی طویل المدت اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیا۔ دونوں جانب نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ و کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کی جدید کاری میں تعاون آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان مسلسل تبادلوں کو بھی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔ لیو ہائسنگ نے چینی قیادت کی جانب سے خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
راولپنڈی میں لیو ہائسنگ نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جنرل ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گفتگو میں باہمی دلچسپی کے امور، بدلتی علاقائی و بین الاقوامی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات زیر بحث آئے۔ دونوں جانب نے پاکستان چین اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی چینی عہدیدار سے ملاقات کی۔ فریقین نے ثقافتی تعلقات اور عوامی روابط بڑھانے کے طریقوں پر بات کی اور دوطرفہ تعلقات کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ لیو ہائسنگ کا تین روزہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری اعلیٰ سطح سیاسی رابطوں کا حصہ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور چین نے سوست-خنجراب سرحد پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کے لیے گرین چینل فعال کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے، جبکہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد تجارت، کاروباری روابط، میڈیا، تھنک ٹینکس اور ثقافت و سیاحت کے شعبوں میں رابطے بڑھانا بتایا گیا ہے۔
ملاقاتوں میں جاری کیے گئے بیانات تعاون بڑھانے کے سیاسی عزم کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم تجارت، سرمایہ کاری یا نئے منصوبوں سے متعلق کوئی مخصوص نئی مالی قدر یا پابند معاہدہ اس خبر میں اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے پیش رفت کو اعلیٰ سطح سفارتی اور ادارہ جاتی رابطے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
