اسلام آباد: پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید منظم اور وسیع کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق معاہدہ اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے دفاعی حکام کی ملاقات کے دوران طے پایا، جہاں علاقائی سلامتی اور دفاعی روابط کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات چیت کی گئی۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف اور کرغزستان کے متعلقہ دفاعی حکام نے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان موجود تعاون کا جائزہ لیا۔ پاکستانی جانب نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط بڑھانے کی پالیسی کے تناظر میں کرغزستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو اہم قرار دیا۔ کرغز وفد نے بھی پاکستان کے ساتھ پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی روابط کو مزید آگے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔

رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا مقصد دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ اس میں فوجی تربیت، وفود کے تبادلے، پیشہ ورانہ رابطوں اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم مفاہمتی یادداشت کسی مخصوص ہتھیاروں کی خریداری یا مالی مالیت کے دفاعی معاہدے کا اعلان نہیں ہے، اس لیے اسے وسیع تر تعاون کے ادارہ جاتی خاکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ملاقات میں علاقائی امن و استحکام اور بدلتی سکیورٹی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ پاکستان اور کرغزستان دونوں شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف علاقائی فورمز میں شریک ہیں، جہاں انسداد دہشت گردی، سرحد پار جرائم اور علاقائی رابطہ کاری جیسے موضوعات باقاعدگی سے زیر غور آتے ہیں۔ دفاعی سطح پر براہ راست روابط ان وسیع علاقائی مباحث کو دوطرفہ سطح پر عملی تعاون میں تبدیل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان حالیہ برسوں میں وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، ٹرانزٹ، توانائی اور سکیورٹی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کرغزستان کے ساتھ دفاعی تعاون کا نیا فریم ورک اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، تاہم اس کے عملی نتائج آئندہ تربیتی پروگراموں، مشترکہ سرگرمیوں اور ادارہ جاتی رابطوں کی نوعیت سے واضح ہوں گے۔

دونوں جانب نے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دفاعی تعلقات آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ مفاہمتی یادداشت کے بعد متعلقہ اداروں کو تعاون کے مخصوص شعبوں اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر کام کرنا ہوگا، اور کسی بھی نئے ٹھوس منصوبے یا خریداری کی تفصیلات الگ سرکاری اعلانات سے ہی تصدیق ہوں گی۔