پاکستانی روبوٹکس کمپنی روبیونکس ٹیکنالوجیز نے چین کے ساتھ صنعتی منصوبوں سے منسلک مشترکہ تحقیقاتی لیبارٹریاں، مقامی پیداوار کے واضح اہداف رکھنے والے مشترکہ منصوبے اور انجینئروں کی عملی تربیت شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو اویس یاسین نے چائنا اکنامک نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو محض تیار مشینیں درآمد کرنے کے بجائے ڈیزائن، انضمام اور مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بڑھانا ہوگی۔
کمپنی نے اپنے میجک کیو سی نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی گارمنٹ معائنہ نظام کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ کمپنی کے مطابق اس نظام میں کپڑے یا تیار ملبوسات کو ایک پیمائشی سطح اور کیمرے کے ذریعے دیکھا جاتا ہے، پھر مشینی بصارت مخصوص معیار کے مطابق پاس یا فیل نتیجہ دیتی ہے۔ یہ دعویٰ کمپنی کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے؛ اس رپورٹ میں نظام کی رفتار، درستگی یا تجارتی کارکردگی کا آزاد تکنیکی آڈٹ شامل نہیں۔
اویس یاسین نے بتایا کہ ایک حالیہ تنصیب میں صنعتی کیمرہ، آپریٹر ٹچ اسکرین اور ماؤنٹنگ اسمبلی بیرون ملک سے حاصل کیے گئے، جبکہ باقی ڈھانچہ، الیکٹرانکس، کنٹرول سافٹ ویئر، مشینی بصارت اور نظام کا انضمام پاکستان میں کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس کی ٹیکنالوجی کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ کی بعض فیکٹریوں میں استعمال یا آزمائش کے مراحل میں ہے، لیکن مکمل تجارتی تنصیبات کی تعداد ابھی محدود ہے۔
پاکستانی ٹیکسٹائل شعبے کی اہمیت اس لیے نمایاں ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2024–25 میں ٹیکسٹائل برآمدات 17.88 ارب ڈالر رہیں اور مجموعی تجارتی برآمدات کا تقریباً 56 فیصد بنیں۔ معیار کی جانچ، خرابی کی بروقت نشاندہی اور پیداوار میں ضیاع کم کرنے والی ٹیکنالوجی اس شعبے کی مسابقت پر اثر ڈال سکتی ہے، مگر ہر فیکٹری میں فائدہ لاگت، رفتار، تربیت اور موجودہ نظام سے مطابقت پر منحصر ہوگا۔
کمپنی کے سربراہ نے پاکستان میں سروو موٹرز، انکوڈرز، پریسیژن ریڈیوسرز اور ڈرائیوز جیسے اہم روبوٹک پرزوں کی مقامی دستیابی کو بڑا خلا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی انجینئر مشینی ساخت، الیکٹرانکس، کنٹرول سافٹ ویئر اور وژن سسٹمز ڈیزائن کرسکتے ہیں، لیکن انتہائی درست پرزوں کی تیاری اور بڑے پیمانے کی سپلائی چین کے لیے چین کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے مطابق چین نے 2024 میں 2 لاکھ 95 ہزار صنعتی روبوٹ نصب کیے، جو عالمی تنصیبات کا 54 فیصد تھے۔
تجویز کی عملی قدر کا انحصار شراکت کے قانونی ڈھانچے، فکری ملکیت، مقامی انجینئروں کی حقیقی تربیت، پرزوں کی اندرون ملک تیاری اور خریداری کے قابل پیمائش اہداف پر ہوگا۔ صرف اسمبلی یا درآمد کو مقامی ٹیکنالوجی منتقلی کہنا کافی نہیں ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے کمپنی کے دعووں کو واضح نسبت کے ساتھ پیش کیا ہے؛ کسی مشترکہ سرکاری پروگرام، سرمایہ کاری رقم یا طے شدہ معاہدے کا اعلان اس رپورٹ میں نہیں ہوا۔




