پاکستانی روبوٹکس کمپنی روبیونکس نے پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی روبوٹکس کی تیاری میں منظم تعاون کی تجویز پیش کی ہے۔ کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو اویس یاسین کے مطابق مشترکہ لیبارٹریاں، مقامی ضروریات پر توجہ دینے والے جوائنٹ وینچرز اور انجینئروں کی طویل مدتی تربیت ایسے عملی راستے ہیں جن سے پاکستان اپنی مقامی تیاری کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے۔ یہ بات چائنا اکنامک نیٹ کو دیے گئے تحریری انٹرویو میں کہی گئی جسے میٹس گلوبل نے رپورٹ کیا۔
اویس یاسین کا کہنا ہے کہ پاکستان روبوٹک نظام کا بڑا حصہ مقامی سطح پر ڈیزائن اور تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان حصوں میں مشین کا بنیادی ڈھانچہ، الیکٹرانکس، کنٹرول سافٹ ویئر اور بصری شناخت کے نظام شامل ہیں۔ اصل رکاوٹ ان انتہائی درست پرزوں کی مسلسل اور بڑے پیمانے پر دستیابی ہے جو صنعتی روبوٹ کی حرکت، رفتار اور درستگی کو قابل اعتماد بناتے ہیں۔
کمپنی نے اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ملبوسات کی جانچ کے نظام میجک کیو سی کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ نظام کیمرے کے ذریعے تیار شدہ ملبوس کے اہم پیمائشی مقامات شناخت کرتا اور خریدار کی مقرر کردہ حدود کے مطابق نتیجہ پاس یا فیل کی صورت میں دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ تنصیب میں صنعتی کیمرا، ٹچ اسکرین اور اسے نصب کرنے کا ڈھانچہ درآمد کیا گیا جبکہ باقی نظام مقامی طور پر بنایا گیا۔
میجک کیو سی کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں استعمال ہو رہا ہے، تاہم اس کی تجارتی تعیناتی ابھی محدود ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے معیار کی خودکار جانچ خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے حوالے سے دیے گئے اعداد کے مطابق مالی سال 2025 میں ٹیکسٹائل برآمدات 17.88 ارب ڈالر رہیں اور یہ مجموعی تجارتی برآمدات کا تقریباً 56 فیصد تھیں۔ جانچ کے عمل میں رفتار اور یکسانیت پیدا ہونے سے برآمدی آرڈرز کی معیار سے متعلق شرائط پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن ہر فیکٹری میں اس کے نتائج کا الگ تکنیکی جائزہ ضروری ہوگا۔
عام صنعتی روبوٹک بازوؤں کے لیے سروو موٹرز، پریسیژن اینکوڈرز، ریڈیوسرز اور ڈرائیوز بنیادی اجزا ہیں۔ کمپنی کے مطابق پاکستان میں یہ پرزے مطلوبہ درستگی اور مقدار میں دستیاب نہیں، اس لیے مقامی منصوبے درآمدی سپلائی چین پر انحصار کرتے ہیں۔ چین اس شعبے میں بہت بڑا پیداواری مرکز ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے 2024 میں 2 لاکھ 95 ہزار صنعتی روبوٹ نصب کیے جو عالمی تنصیبات کا 54 فیصد تھے۔
مجوزہ شراکت ابھی کسی سرکاری معاہدے یا منظور شدہ منصوبے کا اعلان نہیں بلکہ ایک صنعتی کمپنی کی پیش کردہ حکمت عملی ہے۔ اگر اسے عملی شکل دی جاتی ہے تو مشترکہ تحقیق کے ساتھ معیار بندی، دانشورانہ ملکیت کے ضابطے، مقامی سپلائرز کی اہلیت، سرمایہ کاری اور فروخت کے بعد تکنیکی معاونت طے کرنا ہوگی۔ کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کتنے اہم پرزے پاکستان میں مستقل معیار کے ساتھ تیار ہوتے ہیں، کتنے انجینئر عملی تربیت حاصل کرتے ہیں اور کارخانوں میں نصب نظام پیداوار اور معیار پر قابل پیمائش اثر ڈالتے ہیں۔




