وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو شہریوں کے لیے آسان، مؤثر اور جدید ڈیجیٹل خدمات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں این آئی ٹی بی کی جاری اصلاحات اور اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیراتی پیش رفت دیکھی گئی۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے کے ساتھ بروقت، شفاف اور سہل سرکاری خدمات فراہم کرنے اور موجودہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کا کہا۔
اجلاس میں وفاقی وزارتوں کی ای آفس نظام پر منتقلی کو اہم اصلاح قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس استعمال کو وفاقی حکومت کے ماتحت محکموں اور سرکاری ملکیتی اداروں تک وسیع کیا جائے۔ ای آفس کا مقصد کاغذی فائل کی نقل و حرکت کو ڈیجیٹل ریکارڈ، وقت کی مہر، ذمہ داری کی شناخت اور منظم منظوری کے عمل میں بدلنا ہے۔ اس سے پیش رفت دیکھنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن فائدہ اسی وقت ملتا ہے جب تمام مرحلے واقعی نظام میں مکمل ہوں اور متوازی کاغذی راستہ غیر ضروری تاخیر واپس نہ لائے۔
وزیراعظم نے تمام سرکاری جائیدادوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن جلد مکمل کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کی ہدایت بھی دی۔ جائیداد ریکارڈ میں درست شناخت، ملکیت، استعمال، مقام، دستاویز اور تبدیلی کی تاریخ ضروری ہوتی ہے۔ صرف فائل اسکین کرنا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ نہیں؛ قابل تلاش ڈیٹا، معیار کی جانچ، رسائی کے درجات، بیک اپ اور تبدیلی کا آڈٹ بھی درکار ہوگا تاکہ غلطی، نقل یا غیر مجاز ترمیم کا خطرہ کم رہے۔
اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تکمیل میں تاخیر پر وزیراعظم نے ناراضی ظاہر کی اور تعمیر جلد مکمل کرکے سہولت ترجیحی بنیاد پر فعال کرنے کا کہا۔ انہوں نے پارک کا آپریشن مکمل طور پر آؤٹ سورس کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ این آئی ٹی بی کی تنظیم نو یا رائٹ سائزنگ ہو چکی ہے اور اہم عہدوں پر تقرریاں شفاف انداز میں کی جا رہی ہیں، جبکہ وفاقی وزارتیں ای آفس پر منتقل ہو چکی ہیں اور دوسرے اداروں میں توسیع کی کوشش جاری ہے۔
اعلان اہداف اور انتظامی ہدایات واضح کرتا ہے، لیکن عوامی خدمات کی فہرست، ہر ادارے کی آخری تاریخ، ٹیکنالوجی پارک کی نئی تکمیل تاریخ، آپریٹر کے انتخاب اور کارکردگی کے پیمانے ابھی بیان نہیں ہوئے۔ کامیابی کو سسٹم نصب ہونے کے بجائے شہری کے وقت، درخواست کے مراحل، شکایت کے حل، سرکاری فیصلے کی قابل سراغی اور نظام کی دستیابی سے جانچنا چاہیے۔ اگلا اہم ثبوت یہی ہوگا کہ کتنی خدمات مکمل طور پر آن لائن ہوئیں اور صارف کو دفتر کے کتنے چکر یا کاغذی مرحلے کم کرنا پڑے۔




