سوئٹزرلینڈ کے برنیز اوبرلینڈ میں ایڈلبوڈن-لینک اسکی علاقے کے منتظمین برف بنانے والے پانی کے نیٹ ورک کو گرمیوں میں جنگلاتی آگ کے خلاف استعمال کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تقریباً 200 کلومیٹر ڈھلوانوں والے اس علاقے میں زیرِ زمین پائپ، پمپ، پانی کے ذخائر اور بڑی تعداد میں برف بنانے والی مشینیں پہلے سے موجود ہیں۔
موسمِ سرما میں یہی نظام ٹھنڈے حالات میں پانی کو مصنوعی برف میں بدلتا ہے۔ گرمیوں میں بارش اور پگھلتی برف کا پانی ذخائر میں جمع رہتا ہے، اس لیے ہنگامی صورت میں فائر بریگیڈ پائپ لائن سے پانی لے سکتی ہے اور ہیلی کاپٹر بھی انہی ذخائر سے ٹینک بھر سکتے ہیں۔
منتظمین کے مطابق برف کی توپوں کا بنیادی کردار براہِ راست بڑے جنگل پر پانی پھینکنا نہیں ہو گا۔ زیادہ عملی استعمال قریبی عمارتوں اور گھاس کو نم کرنا، آگ کے سامنے عارضی گیلی پٹی بنانا اور زمینی یا فضائی امداد پہنچنے تک شعلوں کی رفتار کم کرنا ہو سکتا ہے۔ کینٹن برن کی فائر سروس کے مطابق ایسے اسکی انفراسٹرکچر کو پہلے ہی ہنگامی تعیناتی کی منصوبہ بندی میں شامل رکھا جاتا ہے۔
جولائی میں کینٹن برن کے حکام نے خشک موسم کے دوران جنگل اور اس کے قریب آگ جلانے پر پابندی عائد کی اور خطرے کی مسلسل نگرانی جاری رکھی۔ سوئٹزرلینڈ میں اس وقت پڑوسی ملکوں جیسی وسیع آگ نہیں لگی تھی، مگر مقامی حکام اور ریزورٹ مینیجرز کا کہنا تھا کہ خشک بہار اور گرم موسم تیاری بڑھانے کی وجہ ہیں۔
یہ حل ہر پہاڑی علاقے میں نقل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ زیادہ تر جنگلات کے نیچے ایسا پائپ نیٹ ورک یا ذخیرہ موجود نہیں۔ مٹی کی نمی، نباتات، ڈھلوان، ہوا، پانی کی دستیابی اور فائر بریگیڈ کی رسائی ہر مقام پر مختلف ہوتی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ مقامی آبپاشی موسمیاتی خطرات میں کمی کی وسیع حکمت عملی کا بدل نہیں۔
دستیاب رپورٹ کے وقت اس اختیار کو کسی حقیقی جنگلاتی آگ میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ موجودہ حیثیت اسے مقامی ہنگامی منصوبہ بندی میں شامل ایک اضافی ذریعہ بناتی ہے، مکمل حل نہیں؛ اس کی عملی مؤثریت کسی مشق یا واقعے کے بعد ہی شواہد کے ساتھ جانچی جا سکے گی۔

