اسلام آباد میں زیڈ والٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کیش لیس معیشت کے ہدف کے لیے مالیاتی خدمات اور جدید ٹیکنالوجی کے انضمام کو اہم سمجھتی ہے۔ زیڈ والٹ کو زندگی، زونگ اور جے ایس بینک کے اشتراک سے متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیر کے مطابق اس نوعیت کی شراکت داریاں عام شہریوں، چھوٹے کاروباروں اور رسمی بینکاری سے دور طبقات تک ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت پہنچانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ حکومت نے کیش لیس معیشت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے، جس کا مقصد مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان پالیسی رابطہ بہتر بنانا ہے۔

ڈیجیٹل والیٹ بنیادی طور پر موبائل فون کے ذریعے رقم رکھنے، منتقل کرنے، بل ادا کرنے اور خریداری کی ادائیگی کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کا فائدہ تب زیادہ ہوتا ہے جب اکاؤنٹ کھولنے کا عمل آسان، فیس واضح، نیٹ ورک قابل اعتماد اور صارف کے پیسے کی حفاظت مضبوط ہو۔ پاکستان میں موبائل فون کا استعمال وسیع ہے، لیکن ہر صارف باقاعدہ بینک اکاؤنٹ یا قریبی برانچ تک رسائی نہیں رکھتا۔ اسی لیے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی، بینک اور مالیاتی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کا اشتراک آخری میل تک رسائی بہتر بنانے کا ایک ممکنہ راستہ سمجھا جاتا ہے۔

کیش لیس نظام کے حامیوں کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی سے لین دین کا ریکارڈ بہتر ہوتا ہے، نقد رقم سنبھالنے کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور چھوٹے کاروبار کو اپنی آمدن کا قابل تصدیق ریکارڈ ملتا ہے۔ ایسا ریکارڈ مستقبل میں قرض یا کاروباری سہولت حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ حکومت کے لیے بھی محصولات، سبسڈی اور سرکاری ادائیگیوں میں شفافیت بڑھانے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ان فوائد کا انحصار اس بات پر ہے کہ نظام کم آمدن والے اور کم ڈیجیٹل مہارت رکھنے والے صارفین کے لیے بھی آسان اور قابل برداشت ہو۔

اس تبدیلی کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ فراڈ، فشنگ، سم کی غیر مجاز تبدیلی، غلط نمبر پر رقم بھیجنے اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے صارفین کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے واضح شکایتی نظام، فوری اکاؤنٹ بلاک کرنے کی سہولت، مضبوط شناختی تصدیق، لین دین کی حدیں اور مقامی زبان میں صارف آگاہی ضروری ہیں۔ ایسے علاقوں میں جہاں موبائل یا انٹرنیٹ رابطہ کمزور ہے، صرف ڈیجیٹل ادائیگی پر انحصار لوگوں کو ضروری خدمات سے محروم بھی کر سکتا ہے؛ اس لیے منتقلی مرحلہ وار اور متبادل راستوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔

تقریب میں حکومت کی جانب سے مالیاتی شمولیت اور نجی شعبے کی جدت کی حمایت کا پیغام دیا گیا، لیکن کسی بھی نئے والیٹ کی حقیقی کامیابی رجسٹرڈ اکاؤنٹس کی تعداد سے زیادہ فعال اور محفوظ استعمال سے ناپی جائے گی۔ باقاعدہ اعداد و شمار میں فعال صارفین، ناکام لین دین، شکایات کے حل کا وقت، فیس، دیہی رسائی اور خواتین صارفین کی شرکت شامل ہونی چاہیے۔ اگر ریگولیٹری نگرانی، صارف تحفظ اور مسابقت برقرار رہے تو ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کا یہ ملاپ پاکستان میں روزمرہ ادائیگیوں کو زیادہ آسان اور دستاویزی بنا سکتا ہے۔