اسلام آباد: پاکستان نے چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں عدم توازن کم کرنے اور پاکستانی برآمدات کے لیے زیادہ مؤثر مارکیٹ رسائی حاصل کرنے کی غرض سے مزید ٹیرف رعایتوں پر مذاکرات آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق بات چیت کا محور ایسی پاکستانی مصنوعات ہوں گی جن میں برآمدی صلاحیت موجود ہے لیکن چینی منڈی میں موجودہ ٹیرف یا دیگر تجارتی شرائط ان کی مسابقت محدود کرتی ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا دوسرا مرحلہ پہلے ہی بڑی تعداد میں ٹیرف لائنوں پر رعایتیں فراہم کرتا ہے۔ تاہم پاکستانی پالیسی سازوں اور برآمد کنندگان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ان مصنوعات کے لیے اضافی سہولت حاصل کی جائے جن میں پاکستان کو پیداواری برتری یا برآمد بڑھانے کی گنجائش حاصل ہے۔ مذاکرات میں ٹیرف کے ساتھ قواعدِ اصل، کسٹمز سہولت کاری اور غیر ٹیرف رکاوٹوں جیسے معاملات بھی تجارتی رسائی کے عملی اثر کو متاثر کرسکتے ہیں۔

چین پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، مگر دوطرفہ تجارت میں پاکستان کا درآمدی بل اس کی چین کو برآمدات سے نمایاں طور پر زیادہ رہتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تجارتی خسارے کو صرف درآمدات محدود کرکے نہیں بلکہ برآمدی مصنوعات کی تعداد، معیار اور چینی منڈی تک رسائی بڑھا کر زیادہ پائیدار انداز میں کم کیا جاسکتا ہے۔

ممکنہ اضافی رعایتیں خود بخود برآمدات میں اضافہ یقینی نہیں بناتیں۔ پاکستانی صنعت کو قیمت، معیار، مقدار، مستقل سپلائی، سرٹیفکیشن اور چینی خریداروں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی بہتر بنانا ہوگی۔ اسی طرح کسی بھی نئی رعایت کا حتمی دائرہ دونوں حکومتوں کے مذاکرات اور باقاعدہ منظوری کے بعد ہی واضح ہوگا۔

پاکستانی حکام موجودہ معاشی حکمت عملی میں برآمدات کو پائیدار ترقی اور زرمبادلہ کی آمدن بڑھانے کا بنیادی ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ چین کے ساتھ ٹیرف مذاکرات اسی وسیع پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس مرحلے پر معاملہ مذاکرات اور تجارتی پالیسی کی ترجیحات سے متعلق ہے؛ کسی مخصوص نئی ٹیرف لائن پر حتمی رعایت اس وقت تک نافذ تصور نہیں کی جاسکتی جب تک دونوں فریق باضابطہ معاہدہ یا نوٹیفکیشن جاری نہ کریں۔