کراچی: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس نے پاکستان کے زرمبادلہ کے بہاؤ اور بیرونی کھاتے کو اہم سہارا فراہم کیا ہے۔ رسمی بینکاری اور ڈیجیٹل ذرائع سے آنے والی رقوم گھریلو اخراجات، بچت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ملک کی مجموعی بیرونی مالی ضروریات میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

حالیہ اعدادوشمار میں خلیجی ممالک، برطانیہ، امریکا اور دیگر بڑی پاکستانی تارکین وطن منڈیوں سے آنے والی رقوم کا نمایاں حصہ برقرار رہا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات روایتی طور پر پاکستان کے لیے ترسیلات زر کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں، جبکہ برطانیہ اور امریکا میں مقیم پاکستانی بھی مجموعی بہاؤ میں اہم حصہ ڈالتے ہیں۔ مختلف ملکوں سے ماہانہ رقوم میں شرح مبادلہ، روزگار، موسمی ادائیگیوں اور مالی ذرائع کی دستیابی کے باعث اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک نے رسمی چینلز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے بینکنگ سہولت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ترغیبی اسکیموں پر کام کیا ہے۔ رسمی ذرائع سے ترسیلات بڑھنے سے زرمبادلہ کا بہاؤ زیادہ قابل نگرانی ہوتا ہے اور غیرقانونی حوالہ یا ہنڈی نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کے بیرونی کھاتے میں ترسیلات زر کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر بیرونی مالی ذمہ داریوں کے لیے مستقل زرمبادلہ درکار ہوتا ہے۔ برآمدی آمدن کے ساتھ ترسیلات زر کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنے اور زرمبادلہ ذخائر کے استحکام میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم یہ رقوم برآمدات یا براہ راست سرمایہ کاری کا متبادل نہیں، کیونکہ طویل مدتی پیداواری صلاحیت کے لیے سرمایہ کاری اور مسابقتی برآمدی شعبہ بھی ضروری ہے۔

آئندہ مہینوں میں ترسیلات کا رجحان میزبان ممالک کی معاشی صورتحال، پاکستانی کارکنوں کی تعداد، عالمی تیل کی قیمتوں سے خلیجی روزگار پر اثر اور رسمی و غیررسمی شرح مبادلہ کے فرق سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔ موجودہ اضافہ بیرونی مالی پوزیشن کے لیے مثبت ہے، لیکن پائیدار استحکام کے لیے برآمدات، سرمایہ کاری اور دیگر زرمبادلہ ذرائع میں بھی مسلسل بہتری درکار ہوگی۔