اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کے لیے درمیانی مدت میں بتدریج بہتری کا اندازہ پیش کرتے ہوئے شرح نمو 4.2 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ پاکستان ڈیولپمنٹ آؤٹ لک میں کہا گیا ہے کہ میکرو اکنامک استحکام میں پیش رفت کے باوجود معیشت کو بلند قرض، محدود مالی گنجائش، کم سرمایہ کاری اور بیرونی جھٹکوں جیسے خطرات کا سامنا رہے گا۔

بینک کے جائزے کے مطابق افراط زر میں کمی اور بیرونی کھاتوں میں نسبتاً استحکام نے پالیسی سازوں کو کچھ گنجائش دی ہے، لیکن بلند اور پائیدار نمو کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، برآمدی مسابقت، توانائی کے شعبے کی کارکردگی اور ٹیکس وصولی میں بہتری کو درمیانی مدت کے منظرنامے کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

عالمی بینک کی پیش گوئی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ اصلاحاتی پروگرام میں نمایاں تعطل نہیں آئے گا اور ملکی و عالمی حالات کسی بڑے منفی جھٹکے کا شکار نہیں ہوں گے۔ زرعی پیداوار، موسمی خطرات، عالمی اجناس کی قیمتیں، بیرونی مالی ضروریات اور سیاسی و پالیسی تسلسل حقیقی شرح نمو کو پیش گوئی سے اوپر یا نیچے لے جاسکتے ہیں۔ اس لیے 4.2 فیصد کا عدد یقینی نتیجہ نہیں بلکہ دستیاب معلومات پر مبنی تخمینہ ہے۔

رپورٹ میں نجی شعبے کی سرگرمی بڑھانے کے لیے کاروباری ماحول اور ریگولیٹری فریم ورک بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح طویل عرصے سے علاقائی معیارات کے مقابلے میں کم رہی ہے، جس سے پیداواری صلاحیت اور روزگار پیدا کرنے کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ نوجوان آبادی کے لیے کافی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے صرف معاشی استحکام نہیں بلکہ نسبتاً بلند اور مسلسل حقیقی نمو درکار ہوگی۔

حکومت نے حالیہ مہینوں میں برآمدات، نجی سرمایہ کاری، ٹیکس اصلاحات اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو کو اپنی معاشی حکمت عملی کے اہم ستون قرار دیا ہے۔ عالمی بینک کا منظرنامہ ان اصلاحات کے نفاذ کو مستقبل کی ترقی سے جوڑتا ہے۔ پیش گوئی کا اصل امتحان آئندہ مالی سالوں میں سرمایہ کاری، صنعتی و زرعی پیداوار، روزگار اور حقیقی آمدن کے اعدادوشمار سے ہوگا۔