کراچی: ایک نئی بین الاقوامی جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے پانچ بڑے شہروں کو موسمیاتی آفات کے مقابلے میں کم ترین لچک رکھنے والے شہری مراکز میں شمار کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق AlphaGeo کی جانب سے 72 بڑے شہروں کے تجزیے میں حیدرآباد، ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی نچلے دس مقامات میں شامل رہے۔

رپورٹ نے موسمیاتی خطرات کے سامنے شہروں کی نمائش اور ان خطرات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے مختلف اشاریوں کا استعمال کیا۔ جنوبی ایشیا کے کئی شہر بلند درجہ حرارت، سیلاب، شدید بارش، پانی کے دباؤ اور تیزی سے پھیلتی آبادی جیسے عوامل کے باعث کمزور پوزیشن میں آئے۔ پاکستانی شہروں کے لیے مسئلہ صرف قدرتی خطرے کی موجودگی نہیں بلکہ انفراسٹرکچر، شہری منصوبہ بندی اور موافقت کی استعداد کا فرق بھی ہے۔

کراچی بارش اور شہری سیلاب کے ساتھ شدید گرمی کا سامنا کرتا ہے، جبکہ لاہور اور فیصل آباد میں گرمی اور فضائی آلودگی جیسے دباؤ نمایاں ہیں۔ ملتان بلند درجہ حرارت کے خطرے سے دوچار ہے اور حیدرآباد بھی گرمی اور پانی سے متعلق موسمیاتی اثرات کا سامنا کرتا ہے۔ تاہم رپورٹ کی درجہ بندی کو کسی ایک آنے والی آفت کی پیش گوئی نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ مختلف عوامل پر مبنی تقابلی خطرے اور لچک کا جائزہ ہے۔

شہری موسمیاتی لچک بڑھانے کے لیے نکاسی آب، سبز مقامات، گرمی سے بچاؤ کے منصوبے، عمارتوں کے بہتر معیارات، ہنگامی ردعمل، پانی کے انتظام اور خطرے سے آگاہ زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اہم اقدامات میں شمار ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے نتائج پاکستان میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔ درجہ بندی کے طریقہ کار اور ڈیٹا کی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی پانچ بڑے پاکستانی شہروں کا نچلے گروپ میں آنا اس امر کی واضح یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی موافقت کو شہری ترقی کے بنیادی فیصلوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔