اسلام آباد: پاکستان اور جاپان نے سندھ میں دریائے سندھ کے ساتھ سیلاب سے بچاؤ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 16.4 ملین ڈالر مالیت کے گرانٹ معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان اور ڈان کے مطابق وزارت اقتصادی امور میں منصوبے سے متعلق ایکسچینج آف نوٹس، ریکارڈ آف ڈسکشن اور گرانٹ ایگریمنٹ پر دستخط کیے گئے۔

منصوبے کا عنوان سندھ صوبے میں دریائے سندھ پر سیلابی تحفظ اور ڈائیک امپروومنٹ سے متعلق ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ایسے حفاظتی ڈھانچے کی تعمیر نو اور مضبوطی ہے جو دریا میں بلند بہاؤ یا سیلاب کے دوران آبادی، زرعی زمین اور مقامی معاشی سرگرمیوں کو نقصان سے بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد صوبائی اور وفاقی سطح پر موسمیاتی لچک اور حفاظتی انفراسٹرکچر کی ضرورت مزید نمایاں ہوئی ہے۔

جاپانی معاونت گرانٹ کی شکل میں فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے یہ منصوبہ قرض کے بجائے ترقیاتی تعاون کے فریم ورک میں آتا ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات میں منصوبے کے ہر تعمیراتی مقام، تکمیل کی حتمی تاریخ یا ہر بند کے لیے مختص رقم کی مکمل تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان پہلوؤں پر مزید سرکاری دستاویزات کو حتمی حوالہ سمجھا جائے گا۔

سندھ میں دریائی سیلاب صرف رہائشی علاقوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ زراعت، سڑکوں، آبپاشی کے نظام اور دیہی روزگار پر بھی وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مضبوط بند اور سیلابی حفاظتی تنصیبات خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتیں، تاہم مناسب ڈیزائن، دیکھ بھال اور بروقت انتظام کے ساتھ نقصان کے امکانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پاکستان اور جاپان کے درمیان اس معاہدے کو موسمیاتی موافقت اور آفات سے بچاؤ کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کی ایک نئی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے کی کامیابی کا عملی پیمانہ تعمیراتی معیار، خطرے سے دوچار علاقوں کی درست ترجیح، مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے اور طویل مدت میں حفاظتی ڈھانچے کی دیکھ بھال ہوگا۔