لاہور: لاہور سفاری زو میں پاکستان کا پہلا مخصوص وائلڈ لائف ہسپتال مکمل کر لیا گیا ہے، جہاں جنگلی جانوروں، پرندوں اور دیگر حیات کے علاج اور تحفظ سے متعلق سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ریڈیو پاکستان نے 8 ستمبر کو اس منصوبے کی تکمیل کی اطلاع دیتے ہوئے اسے ملک میں جنگلی حیات کی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا۔

وائلڈ لائف ہسپتال کا بنیادی تصور عام ویٹرنری کلینک سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ جنگلی انواع کے علاج، قرنطینہ، بحالی اور محفوظ ہینڈلنگ کے لیے مخصوص مہارت، آلات اور پروٹوکول درکار ہوتے ہیں۔ زخمی یا بیمار جنگلی جانوروں کے ساتھ ایسے جانور بھی طبی نگرانی کے محتاج ہو سکتے ہیں جو ریسکیو کارروائیوں کے دوران تحویل میں لیے جائیں یا قدرتی مسکن میں واپسی سے پہلے بحالی کے مرحلے سے گزریں۔

لاہور سفاری زو پنجاب میں جنگلی حیات کی نمائش اور تحفظ سے متعلق ایک اہم سرکاری مرکز ہے۔ نئے ہسپتال کی موجودگی سے موقع پر طبی سہولت کی دستیابی بہتر ہونے کی توقع ہے اور پیچیدہ کیسز میں جانوروں کو طویل فاصلے تک منتقل کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم ہسپتال کی مکمل استعداد، عملے کی تعداد، مخصوص طبی آلات اور سالانہ علاج کی گنجائش سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار سرکاری رپورٹ میں محدود ہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ میں طبی علاج صرف ایک جزو ہے۔ غیر قانونی شکار اور تجارت کی روک تھام، قدرتی مساکن کا تحفظ، بیماریوں کی نگرانی، سائنسی افزائش اور ریسکیو کے بعد جانوروں کی مناسب بحالی بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ ایک مخصوص ہسپتال ان سرگرمیوں کو طبی اور تشخیصی مدد فراہم کر سکتا ہے، خاص طور پر جب مختلف انواع کے لیے الگ نگہداشت کی ضرورت ہو۔

منصوبے کی طویل مدتی کامیابی کا دارومدار تربیت یافتہ ویٹرنری ماہرین، ادویات اور تشخیصی سہولتوں کی مسلسل دستیابی، جانوروں کی بہبود کے معیارات اور علاج و بحالی کے قابلِ جانچ ریکارڈ پر ہوگا۔ تکمیل کے بعد اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ ہسپتال کو عملی طور پر کس پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ پنجاب کے وسیع تر وائلڈ لائف ریسکیو نیٹ ورک سے کیسے منسلک ہوتا ہے۔