اسلام آباد: پاکستان نے متعدد عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ مل کر کولمبیا کی جانب سے یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور بوگوٹا حکومت سے یہ اقدام واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مشترکہ مؤقف میں کہا گیا کہ یروشلم کی حیثیت سے متعلق یکطرفہ اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
عرب نیوز پاکستان کے مطابق پاکستان اور 17 دیگر ممالک نے جمعہ کو کولمبیا کے اقدام پر اعتراض کیا، جبکہ بعض دیگر علاقائی رپورٹس میں مشترکہ بیان سے وابستہ ممالک کی تعداد 19 بتائی گئی ہے۔ تعداد سے متعلق مختلف رپورٹنگ کے باوجود بنیادی نکتہ یکساں ہے کہ پاکستان اس مشترکہ سفارتی ردعمل کا حصہ ہے اور کولمبیا سے یروشلم میں سفارتی مشن کھولنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کولمبیا نے بدھ کو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ افتتاح کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس اقدام کے بعد کولمبیا ان محدود ممالک میں شامل ہوگیا جنہوں نے شہر میں سفارتی مشن قائم کیا ہے۔ یروشلم کی حتمی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازع کے حساس ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری کے بیشتر ممالک اپنے سفارتخانے تل ابیب یا اس کے اطراف رکھتے آئے ہیں اور شہر کی حیثیت کو مذاکرات سے طے کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
مشترکہ مذمتی مؤقف میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ کولمبیا کا فیصلہ بین الاقوامی قانونی اور سفارتی فریم ورک سے متصادم اثرات پیدا کرسکتا ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے امکانات کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔
کولمبیا کی موجودہ حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے ہیں، جبکہ اس سے پہلے کی حکومت نے غزہ جنگ کے دوران سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اسی نئی خارجہ پالیسی سمت کا ایک نمایاں قدم ہے اور اسی وجہ سے مسلم ممالک کی جانب سے اجتماعی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ مذمتی بیان بذاتِ خود کولمبیا کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور نہیں کرتا، لیکن اس سے فلسطین کے معاملے پر مسلم ممالک کی مشترکہ سفارتی پوزیشن کی عکاسی ہوتی ہے۔ آئندہ مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ بوگوٹا اس مطالبے پر کوئی نظرثانی کرتا ہے یا سفارتخانہ یروشلم میں برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو فلسطینی ریاست، یروشلم کی حیثیت اور دو ریاستی حل کے وسیع تر اصولوں سے جوڑا گیا ہے۔

