اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں نئے تعینات ہونے والے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البگامی سے ملاقات میں سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کے پس منظر میں ہوئی۔
وزیراعظم نے سعودی سفیر کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات حالیہ برسوں میں مزید آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کو طویل عرصے سے فراہم کی جانے والی اقتصادی اور مالی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حوثی حملوں میں اضافے کی سخت مذمت کی۔ ان حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور متاثرین میں پاکستانی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور موجودہ سکیورٹی صورتحال میں بھی پاکستان اپنی حمایت برقرار رکھے گا۔
انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی تعاون سے متعلق حالیہ انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں دیرینہ تعلقات اور علاقائی امن و سلامتی کے مشترکہ عزم کی علامت قرار دیا۔ پاکستان اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ متعلقہ دفاعی انتظامات کا مقصد اجتماعی دفاع اور بازدارندگی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ان وعدوں کی عملی اور سفارتی اہمیت بڑھ گئی ہے، تاہم کسی مخصوص نئی فوجی تعیناتی کا اعلان اس ملاقات میں نہیں کیا گیا۔
نئے سعودی سفیر نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک اور برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ سفیر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی، جہاں دونوں جانب سے باہمی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش دہرائی گئی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام نے ریاض اور مشرقی صوبے میں فضائی خطرات سے متعلق انتباہات جاری کیے جبکہ توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پاکستان نے اس تناظر میں سفارتی سطح پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور سلامتی سے متعلق اپنے مؤقف کو دوبارہ واضح کیا ہے۔

