اسلام آباد: پاکستان اور سلطنت عمان نے دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے چھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے دورۂ پاکستان اور پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے دوران ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دستاویزات کے تبادلے کی تقریب دیکھی، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عمانی وزیر خارجہ نے کمیشن کے اجلاس کی کارروائی سے متعلق پروٹوکول پر دستخط کیے۔

سرکاری بیانات کے حوالے سے جیو نیوز اور ڈان نے رپورٹ کیا کہ دستاویزات میں سفارتی، خصوصی، سرکاری اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنا کا معاہدہ اور ریکارڈز و آرکائیوز سے متعلق مفاہمتی یادداشت شامل ہے۔ دیگر مفاہمتی یادداشتیں اطلاعات و نشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، اور خبروں و میڈیا کے تبادلے میں تعاون سے متعلق ہیں۔

مشترکہ وزارتی کمیشن میں دونوں ملکوں نے تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس اور محنت و انسانی وسائل کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، غذائی تحفظ، سیاحت، تعلیم اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ دونوں جانب سے کاروباری برادریوں کے درمیان زیادہ رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

علاقائی امور پر پاکستان اور عمان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی اور آبنائے ہرمز اور باب المندب میں محفوظ اور آزاد جہاز رانی کی اہمیت اجاگر کی۔ دونوں ممالک نے ادارہ جاتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس عمان میں منعقد ہونا ہے۔ ان معاہدوں کے عملی نتائج کا انحصار متعلقہ وزارتوں اور مشترکہ ورکنگ گروپس کی آئندہ عمل درآمدی پیش رفت پر ہوگا۔