سنکیانگ: پاکستان اور چین کی بری افواج کی مشترکہ تربیتی سرگرمی ’قراقرم 2026‘ چین کے سنکیانگ خطے میں شروع ہو گئی ہے۔ چینی وزارت دفاع کے مطابق یہ تربیت کورلا میں وسط اور اواخر اکتوبر کے دوران منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا مرکزی موضوع بلند پہاڑی علاقوں میں مشترکہ انسداد دہشت گردی کارروائیاں ہیں۔
چینی وزارت قومی دفاع کے ترجمان سینئر کرنل چن شی نے مشق سے قبل بتایا تھا کہ تربیتی پروگرام میں بغیر پائلٹ فضائی نظام چلانے، حرکت کے دوران اہداف تلاش کرنے اور فائرنگ، طویل فاصلے کی نشانہ بازی، مشترکہ کمان اور عملی دستوں کی مشقیں شامل ہوں گی۔ ڈان نے 15 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ پاکستانی اور چینی افواج نے سنکیانگ میں باقاعدہ مشترکہ تربیت شروع کر دی ہے۔
چینی وزارت دفاع نے اس سرگرمی کو دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان پہلی مشترکہ بری فوجی تربیت قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق مقصد انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون گہرا کرنا اور دونوں افواج کے درمیان باہمی عملی ہم آہنگی بہتر بنانا ہے۔ یہ تربیت پاکستان اور چین کے دیرینہ دفاعی تعلقات کے ایک نئے عملی مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے، تاہم اس کے نتائج اور مستقبل کی مشترکہ سرگرمیوں کے بارے میں کوئی اضافی دعویٰ سرکاری اعلانات کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اور چین دفاعی تعاون، فوجی تبادلوں اور سکیورٹی معاملات پر طویل عرصے سے رابطے میں ہیں۔ قراقرم 2026 کی توجہ خاص طور پر دشوار گزار اور بلند علاقوں میں مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں پر ہے۔ مشق کے دوران استعمال ہونے والی مہارتوں میں جدید نگرانی، ہدف کی شناخت اور مشترکہ کمان کے عناصر شامل ہیں، جو پہاڑی ماحول میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تربیت کی تکمیل اور نتائج سے متعلق مزید تفصیلات دونوں ممالک کے دفاعی حکام کے باضابطہ بیانات سے سامنے آئیں گی۔
