واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔ ڈان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سعودی عرب کی سلامتی اور حقِ دفاع کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستانی نمائندے نے یمن اور وسیع تر خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ان کوششوں کی حمایت کی جن کا مقصد مذاکرات کی بحالی اور سیاسی حل کی طرف پیش رفت ہے۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ علاقائی اختلافات کو سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے حل کرنا پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔
اسی اجلاس میں پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں آبادکاری کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد، مسماری، زمینوں پر قبضے اور جبری نقل مکانی کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ سفیر عثمان جدون نے کہا کہ ایسے اقدامات فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت اور دو ریاستی حل کی عملی بنیاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے آبادکاری کی سرگرمیاں روکنے اور تشدد کے واقعات پر جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے دو ریاستی حل کو منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فریم ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حمایت کو عملی اقدامات کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے تاکہ فلسطینی ریاست کی علاقائی وحدت اور قابلِ عمل حیثیت محفوظ رہے۔ پاکستانی نمائندے نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے احترام پر بھی زور دیا۔
غزہ کے حوالے سے پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، فلسطینی ہلاکتوں اور انسانی امداد تک رسائی کی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی۔ پاکستان نے جنگ بندی پر مکمل عمل، بلا رکاوٹ اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی اور بحالی و تعمیر نو کے عمل کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے کی سرگرمیوں کی حمایت اور فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے محصولات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے جبری نقل مکانی اور غزہ و مغربی کنارے کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنے کی کسی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتبار اور وقت کی پابندی والے سیاسی عمل کی ضرورت بیان کی۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے قبضے کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام بنیادی شرط ہے۔

