اسلام آباد: پاکستان سمیت مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے کولمبیا کی جانب سے یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل کرنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے 16 اکتوبر کو جاری مشترکہ بیان میں کولمبیا سے فیصلہ واپس لینے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں پاکستان کے ساتھ الجزائر، جبوتی، مصر، انڈونیشیا، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، شام، سوڈان، ترکی اور یمن کے وزرائے خارجہ کے نام شامل ہیں۔ بعض ابتدائی میڈیا رپورٹس میں شریک ممالک کی تعداد مختلف انداز سے بیان ہوئی، تاہم دفتر خارجہ کے اصل بیان میں درج نام اس رپورٹ کی بنیاد ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ کولمبیا کا اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بیان میں بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 476 اور 478 کا حوالہ دیا گیا، جو یروشلم کی حیثیت یا کردار تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہیں اور سفارتی مشنز کے حوالے سے ریاستوں کے لیے واضح مؤقف پیش کرتی ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت میں تبدیلی کے لیے کوئی اقدام یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کالعدم اور بے اثر سمجھا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے حقوق، ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو اس کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔
کولمبیا نے 14 اکتوبر کو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ باضابطہ طور پر کھولا تھا۔ زیادہ تر ممالک اسرائیل میں اپنے سفارتخانے تل ابیب میں رکھتے ہیں کیونکہ یروشلم کی حتمی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازع کے بنیادی مسائل میں شامل ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ قرار دیتا رہا ہے۔
تازہ مشترکہ بیان سفارتی ردعمل ہے اور اس میں کولمبیا کے خلاف کسی پابندی یا عملی تعزیری اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ بوگوٹا یروشلم میں سفارتخانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، اسے واپس لے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے حقوق یا شہر کی متنازع قانونی حیثیت کو متاثر کریں۔

