پاکستان نے بجلی کے شعبے میں مسابقتی مارکیٹ کی جانب عملی پیش رفت کرتے ہوئے بڑے صارفین اور بجلی پیدا کرنے والوں کے درمیان براہ راست خرید و فروخت کے نظام کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور دیگر بڑے صارفین اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ چھوٹے اور گھریلو صارفین کو بعد کے مراحل میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر آف پاکستان، یعنی آئی ایس ایم او، نے کمپٹیٹیو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ فریم ورک کے تحت ملک کے پہلے 400 میگاواٹ وہیلنگ آکشن کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ وہیلنگ نظام میں اہل بجلی پیدا کنندگان اور صارفین موجودہ ترسیلی نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے باہمی معاہدے کے تحت بجلی کی فراہمی اور خریداری کر سکتے ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت بجلی کی مرکزی خریدار کی روایتی حیثیت سے بتدریج پیچھے ہٹ رہی ہے اور نئے نظام میں پروڈیوسرز اور صارفین ایک شفاف طریقہ کار کے ذریعے براہ راست لین دین کر سکیں گے۔ موجودہ ڈھانچے میں حکومت مختلف پیداواری کمپنیوں سے بجلی خرید کر صارفین تک پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ نئے فریم ورک کا مقصد اس بندوبست میں مارکیٹ پر مبنی متبادل پیدا کرنا ہے۔
پہلے آکشن میں شرکت کے خواہش مند اداروں کو 20 نومبر 2026 تک تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے اور انہیں آئی ایس ایم او کے الیکٹرانک آکشن پلیٹ فارم پر رجسٹریشن بھی کرنا ہوگی۔ وزیر توانائی کے مطابق ابتدائی اہلیت کی حد ایک میگاواٹ سے زیادہ استعمال رکھنے والے صارفین کے لیے رکھی گئی ہے، تاہم یہ مستقل حد نہیں اور آئندہ برسوں میں نظام کو چھوٹے صارفین تک توسیع دینے کا ارادہ ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ براہ راست مسابقت سے صارفین کو سپلائر کے انتخاب اور نسبتاً کم قیمت بجلی حاصل کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں، جبکہ صنعت کے لیے توانائی لاگت میں کمی برآمدی مسابقت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم عملی نتائج کا انحصار آکشن میں شرکت، نیٹ ورک چارجز، ریگولیٹری قواعد، معاہدوں کی قیمتوں اور ترسیلی صلاحیت سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔ فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ 400 میگاواٹ کی پہلی وہیلنگ نیلامی کے لیے باضابطہ عمل شروع ہو چکا ہے، جو پاکستان کی بجلی مارکیٹ میں طویل عرصے سے زیر بحث اصلاحات کے نفاذ کا ابتدائی مرحلہ ہے۔
