اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کو متاثر کرنے والے حالیہ حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور اس کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایسے حملے اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ پاکستانی بیان میں مکہ الائنس سے وابستگی کا بھی اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین کو کسی بیرونی جارحیت یا خطرے سے محفوظ رکھنے سمیت سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے حملوں کا مقابلہ کرنے پر سعودی فضائی دفاع کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
یہ مذمت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ گروپ نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہداف کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان کے بیان میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ینبع میں آرامکو کی تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل پمپنگ اسٹیشنز اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سمیت متعدد اہداف کا ذکر کیا گیا۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق ینبع اور طائف کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کیے گئے۔ سعودی سول ڈیفنس نے بتایا کہ روکے گئے میزائلوں کا ملبہ مکہ ریجن کے وادی المغمس کے علاوہ جدہ، طائف اور رابغ کے علاقوں میں گرا۔ دستیاب رپورٹ میں ان مقامات پر براہ راست حملے کے بجائے روکے گئے میزائلوں کے ملبے کے گرنے کی تفصیل دی گئی ہے۔
حوثیوں نے بعد میں اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کو ہدف بنایا تھا۔ گروپ کا مؤقف تھا کہ اس کی کارروائیوں کا نشانہ سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے تھے۔ اس لیے اہداف سے متعلق دعووں میں فریقین کے بیانات مختلف ہیں: پاکستان نے حملوں کو مکہ اور مدینہ کے علاقوں کو نشانہ بنانے کے تناظر میں مذمت کی، جبکہ حوثی گروپ نے مقدس شہروں کو ہدف بنانے سے انکار کیا ہے۔
مسلم ورلڈ لیگ بھی ایک روز قبل ان حملوں کی مذمت کر چکی تھی۔ تازہ کشیدگی نے یمن تنازع کے اس مرحلے کو متاثر کیا ہے جس میں 2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں بڑی حد تک کمی آئی تھی۔
پاکستان کا تازہ بیان بنیادی طور پر ایک سرکاری سفارتی ردعمل ہے اور اس میں کسی نئی پاکستانی فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد نے سعودی عرب کے ساتھ سیاسی و دفاعی یکجہتی، مقدس مقامات کے تحفظ اور خطے میں سلامتی کے لیے اپنی موجودہ پالیسی پوزیشن دہرائی ہے۔

